اصحاب احمد (جلد 12) — Page 122
122 رمضان کے روزے بھی نہایت التزام کے ساتھ رکھتے تھے مگر بیمار ہونے پر محرومی کا افسوس رہتا تھا فدیہ ادا کر دیا کرتے تھے اور دوستوں اور غرباء کیلئے روزہ افطاری کا بندوبست نہایت اعلیٰ اور اہتمام سے کرتے تھے اور اسی میں خوشی محسوس کرتے تھے۔رسول اللہ لہے سے پوچھا گیا کہ کونسا اسلام بہتر ہے۔آپ نے فرمایا کھانا کھلاؤ جس کو جانتے ہو اور نہ جانتے ہو۔چنانچہ مرحوم مہمان یا مسافر خواہ امیر ہو یا غریب اس کے کھانے کا انتظام نہایت پر تکلف کرتے تھے۔بلکہ یہ کوشش کرتے کہ اس کو اپنے ساتھ کھانا کھلا ئیں وقت یا بے وقت مہمان نوازی کیلئے نہایت مستعد رہتے تھے اور گھر والوں کو تاکید کرتے تھے کہ مہمان کی خاطر مدارات میں کوئی فرق نہ آوے۔اور اکثر اچھا کھانا مہمان کیلئے بھجوا دیتے تھے خواہ گھر والوں کیلئے بچے یا نہ بچے۔مہمان نوازی اس مسرت اور خوشی سے کرتے تھے کہ آنے والے کا دل باغ باغ ہو جاتا تھا۔اور مہمان نوازی کا فرض ملازموں پر نہیں چھوڑتے تھے اور کبھی وجاہت کی وجہ سے یہ خیال نہ آتا تھا کہ لوگ ان کو پہلے سلام کریں بلکہ کوشش کرتے کہ سلام میں ابتداء کریں خواہ ان کو پہچانتے ہوں یا نہ پہچانتے ہوں۔دل کے نہایت ہی غریب اور حلیم تھے اگر کبھی کسی سے ناراض ہو گئے یا کسی شخص نے جان بوجھ کر نقصان پہنچایا یا برا بھلا کہا۔تو پھر بھی اس کو بہت جلد معاف کر دیتے تھے۔الغرض آپ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ کا نمونہ تھے۔ہم لوگ بعض وقت حیران ہو جاتے تھے کہ باوجود بعض لوگوں کی سخت دشمنی اور شرارت کے وہ کس طرح اتنی جلدی ان کو معاف کر دیتے تھے۔دین کیلئے نہایت با حیاء با غیرت اور نڈر تھے اور نہی عن المنکر میں کسی سے نہ ڈرتے تھے کوئی فعل شریعت کے خلاف دیکھ لیتے۔خواہ وہ شخص کتناہی بڑا ہو بڑی جرأت اور بہادری سے منع کرتے تھے۔دین کے معاملہ میں کسی سے نہ ڈرتے تھے۔صرف خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر جھکاتے تھے۔جب کبھی اپنی غلطی کا علم ہو جاتا تو اسے بہادری کے ساتھ چھوڑ دیتے تھے۔بلکہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کرتے تھے۔صدقات اور غرباء پروری میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔سینکڑوں لوگوں کو ان سے فیض پہنچا۔اور بعض کی تو سال ہا سال تک مدد کی۔تا کہ وہ اپنی تعلیم کو مکمل کر سکیں۔اور اگر خود مدد نہیں کر سکتے تھے تو عزیزوں اور دوستوں کو تحریک کرتے تھے۔کہ فلاں مستحق اور غریب کی مدد کی جائے۔