اصحاب احمد (جلد 12) — Page 112
112 کر فر مایا کہ اس کی تو یہ تعبیر ہے کہ لگانے والی کی نسل جس کے گھر میں پودے لگائے ہیں اس کے گھر سے چلے گی۔اس زمانہ میں یہ کس قدر خلاف قیاس بات معلوم ہوتی ہو گی۔مگر آج ہم تین بہن بھائیوں کے رشتے جو ہوئے (یعنی ہم دونوں بہنیں دونوں باپ بیٹے کے نکاح میں آئیں اور حضرت چھوٹے بھائی صاحب کی شادی ان کی بڑی لڑکی بوزینب بیگم سے ہوئی ) اس کے ثمر ہماری اولادیں در اولاد میں ملا کر اس وقت بہتر نفوس ہیں جو نواب صاحب اور ان کے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مشتر کہ نسل ہیں۔اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدُ میرے میاں مرحوم کو خدا تعالیٰ نے ذرہ نوازی سے جو بشارت دی تھی۔پوری ہوئی۔سب احباب جماعت سے التجا ہے کہ ان سب کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔یہ عاشق ذات باری ہوں خادم دین ہوں ، صادق ہوں ، صادقوں کے ساتھ رہیں، فتنوں سے دور رہیں ، ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہیں ، دینی و دنیوی حسنات برکات اعلیٰ درجہ کے پائیں، نیک نمونے بنیں، أَنْعَمْتُ عَلَيْهِمْ کے مصداق ہوں اور اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق ، مبارک، خادم دین ، پاک نسلیں ان سے تا قیامت چلیں۔آمین ثم آمین مبارکہ (الفضل13اکتوبر 1961ء) خاکسار مولف کو ایک خط میں موصوفہ رقم فرماتی ہیں کہ میاں عبداللہ خاں صاحب کو غصہ آجا تا تھا۔مگر نیک تھے۔فورا تو بہ تو بہ بھی شروع کر دیتے۔پچھتاتے بہت جلد تھے۔ان کی سادگی طبع ، غصہ ہونے پر ساتھ ہی جلد نادم و قائل ہونا بہت باتیں یاد آگئیں۔بہت اچھا وقت تھا۔ہنستے کھیلتے گزر گیا۔مرحوم مجموعی طور پر سادہ دل۔اور نیک انسان تھے۔چھل فریب طبیعت میں نہیں تھا۔ان کی نرمی اور محبت بھی یادر ہے گی۔