اصحاب احمد (جلد 11) — Page 69
69 اقوام اسلام کی آغوش میں نہ آئیں تو دوسرے مذاہب میں شامل ہو جائیں گی۔آپ نے اس معاملہ کی سیاسی اہمیت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہوئے علاقہ ملکانہ میں ارتداد اور شدھی کے عظیم فتنہ کا ذکر بقیہ حاشیہ: یہ پہلا موقعہ تھا کہ حضور ایام مشاورت میں مرکز سے باہر تھے۔حضور طبی مشورہ کے مطابق سفر یورپ پر روانہ ہونے کے لئے کراچی تشریف لے جاچکے تھے۔(رپورٹ متعلقہ ) آپ ۱۹۲۳ء ۱۹۲۴ء میں ایک ایک سب کمیٹی کے ممبر بھی مقرر ہوئے۔بابت اشاعت اسلام۔اس کی رپورٹ بوجہ علالت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صد رسب کمیٹی آپ ہی نے شوری میں پڑھی (صفحہ ۲۷ ) بابت نظام۔صدر حضرت مفتی محمد صادق صاحب بوجہ افسر صیغہ ہونے کے مقرر ہوئے تھے۔(صفحہ ۶۷) دس بار آپ ذیل کی سب کمیٹیوں کے صدر بھی مقرر ہوئے : (۱) ۱۹۲۶ء۔سب کمیٹی بہشتی مقبرہ سیکرٹری حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب۔(۲) ۱۹۲۷ء میں آپ سب کمیٹی نظارت اعلیٰ کے صدر مقرر ہوئے۔اس سب کمیٹی کے ذمہ یہ نہایت اہم کام بھی سپر د تھا کہ حضرت خلیفہ وقت کے لئے مصارف مقرر کرنے کے بارے میں غور کرے۔سیّد نا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شوری ۱۹۲۴ء میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس بارہ میں مشورہ کے وقت خلیفہ وقت مجلس میں شریک نہ ہوں۔اس لئے میں اب نواب صاحب کے ہاں جاتا ہوں۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب مجلس کا انتظام کریں گے۔جب اس امر کے متعلق فیصلہ ہو جائے تو مجھے اطلاع دے دی جائے۔چنانچہ چوہدری صاحب کی صدارت میں شوری میں اس بارہ میں غور کیا گیا۔(صفحہ ۱۴۱، ۱۴۶، ۱۴۷) (۳) ۱۹۲۸ء۔سب کمیٹی امور عامہ و خارجہ۔سیکرٹری حضرت مفتی محمد صادق صاحب (صفحه ۱۲۱) (۴) ۱۹۳۳ء۔سب کمیٹی نظارت اعلیٰ۔سیکرٹری حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال۔اس سب کمیٹی نے قواعد و مقاصد صوبجاتی انجمن ہائے احمد یہ پر غور کیا تھا (صفحہ ۲۱) اس شوریٰ میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سال بھر کے لئے سولہ افراد پر مشتمل ایک سب کمیٹی مال مقرر فرمائی جس کے ایک ممبر چوہدری صاحب بھی تھے۔کل گیارہ افراد قادیان سے باہر کے تھے۔فرمایا کہ اس کے اجلاس سال میں کئی بار ہونے چاہئیں۔میں بھی ان میں شرکت کروں گا تا اخراجات