اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 65 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 65

65 یہ شوریٰ بہت اہمیت کی حامل تھی۔خلافت اور صدرانجمن احمدیہ کے باہمی تعلقات کے بارے میں جماعت کے ایک حصہ کے خیالات قابل اصلاح تھے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ خلیفہ کا کیا مقام ہے۔انجمن خلافت کی موجودگی میں قائم رہتی ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں صدر انجمن کیونکر معرض وجود میں آئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں مشورہ کے طریق اور مشورہ دینے کے لئے ہدایات اور مشورہ کے اثر اور مجلس شوری کے طریق اور سب کمیٹیوں کے طرز عمل اور پر اپنی تقریر میں روشنی ڈالی۔حضور نے بتایا کہ غرض یہ ہے کہ ایسے امور کے متعلق مشورہ لیا جائے کہ جن کا جماعت کے قیام اور ترقی سے گہرا تعلق ہے تا کام میں آسانی پیدا ہو۔اور جماعت کو بھی ضروریات کا علم ہو سکے۔اور وہ جان سکیں کہ چندہ کی آمد کا مصرف کیا ہے۔شوری سے نئی تجاویز سوجھتی ہیں۔چونکہ مقابلہ کا خیال نہیں ہوتا، اس لئے لوگ صحیح رائے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔شوری کی وجہ سے خلیفہ ونگرانی کرنے میں سہولت میسر ہوتی ہے۔حضور نے مشورہ کے لئے ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ سے ہدایت کے لئے دعا کرے۔ذاتی باتوں کو دل سے نکال دیں۔صحیح بات ہی مانیں اور منوائیں۔یہ خیال نہ کریں کہ ان کی رائے ہی ضرور مانی جائے۔کسی کی پاس خاطر حق میں یا خلاف مشورہ نہ دیں۔کیونکہ یہ بددیانتی ہے۔رائے جلد بازی سے قائم نہ کریں اور اپنی رائے کو بے خطا نہ سمجھیں۔واقعات کو مد نظر رکھیں اور صرف احساسات کی پیروی نہ کریں۔تجاویز نہ صرف یہ کہ غلط نہ ہوں بلکہ اعلیٰ ہونی چاہئیں۔وقت ضائع نہ کیا جائے اور تکرار نہیں ہونا چاہیئے۔اس شوریٰ میں امراء کے تقرر کے بارے میں بھی غور ہوا کہ امارت کے کیا فرائض ہیں۔امیر کا مقام کیا ہوگا۔امیر کا تقر ر شرعی ہے یا نہیں۔امارت اور سلطنت کا آپس میں کیا تعلق ہے۔تالیف و اشاعت کے کام میں توسیع ، امیر طبقہ اور نیچ اقوام میں تبلیغ۔کتب و اخبارات سلسلہ کی اشاعت کے متعلق تجاویز سوچی گئیں۔یہ بھی فیصلہ ہوا کہ غیر ممالک کے مشن جاری رکھے جائیں۔بلکہ نئے مشن بھی کھولے جائیں۔حضور نے مرکزی صیغہ جات کے کام کی تفصیل بیان فرمائی۔اور شوری میں لڑکیوں کی تو ،رشتے ناطوں کی مشکلات ، تنازعات مقامی ، بے روزگاری کے بارہ میں مشورہ ہوا۔اور انجمن کی آمدنی کی زیادتی کے لئے مستقل تجاویز سوچی گئیں۔سیکرٹریان تعلیم و تربیت کے فرائض کی تعیین کی