اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 21 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 21

21 مبارک علی صاحب کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کرنے کے لئے وکیل مقرر کیا تھا۔“ اس مقدمہ کی کماحقہ پیروی کرنے کی خاطر والد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی کا اور سلسلہ کے لٹریچر کا بالتفصیل مطالعہ کرنا پڑا۔اور عدالت میں جماعت احمدیہ کے عقائد کی حمایت کرنی پڑی۔جس کے نتیجہ میں ان کی طبیعت احمدیت سے بہت حد تک متاثر ہوچکی تھی۔غالباً ۱۹۰۴ء میں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے مولوی کرم دین والے مقدمہ میں گورداسپور بطور گواہ صفائی بھی طلب کیا گیا تھا۔وہاں اول بار انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں شرف باریابی حاصل ہوا تھا۔اور وہ بہت خوشگوار اثر لے کر واپس آئے تھے۔“ مجھے یاد ہے کہ والد صاحب کے گورداسپور سے واپس آنے کے بعد کئی دن تک لوگ ہمارے ہاں آیا کرتے تھے اور والد صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق دریافت کیا کرتے تھے اور سہ پہر سے شام تک گفتگو میں زیادہ تر یہی تذکرہ رہا کرتا تھا۔“ ۳ ستمبر ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لیکچر لا ہور میلا رام کے منڈوے میں تھا۔والد صاحب اس موقعہ پر لاہور تشریف لے گئے اور مجھے بھی ساتھ لے گئے۔میری عمر اس وقت ی 11 سال کی تھی۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت اول با راسی موقعہ پر کی اور جسے میں نے ایک مضمون میں جو الفضل میں چھپ چکا ہے واضح کیا ہے۔میں بفضلہ تعالیٰ اُسی دن سے احمدی ہوں ، گو میں نے بیعت تین سال بعد کی۔بعد ازاں حضور سیالکوٹ تشریف لے گئے۔چنانچہ اس بارہ میں محترم چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیالکوٹ تشریف آوری اس شہر کے لئے تا ابد باعث آپ الفضل ۱۹/۵/۳۸ میں تحریر فرماتے ہیں کہ : ” میرے والد صاحب جہانتک میں معلوم کر سکا ہوں کسی وقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالف نہیں تھے اور سلسلہ کے اخبارات و کتب کو ہمدردی سے پڑھا کرتے تھے۔۔۔۔اور گووالد صاحب اسوقت احمدی نہیں تھے تاہم جماعت کی طرف سے انہیں مقدمہ میں وکیل مقرر کیا گیا اور والد صاحب ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ چونکہ اس مقدمہ میں مجھے جماعت کے عقائد کا گہرا مطالعہ کرنا پڑا اور ان عقائد کی عدالت میں حمایت کرنی پڑی اسلئے یہ مقدمہ میری توجہ کو سلسلہ احمدیہ کی طرف بہت حد تک مبذول کرنے کا موجب ہوا۔“