اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 283 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 283

283 احمدیہ کی خدمات کر چکے ہیں ، اس مقدمہ کی سرگرم پیروی نے ان میں ایک اور اضافہ کر دیا ہے۔جہاں ہم اس کامیابی پر جناب چوہدری صاحب کا جماعت کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔وہاں خدا تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں دین و دنیا کی کامیابی عطا فرمائے اور دین کی بیش از بیش خدمات کی توفیق بخشے۔آپ جیسے مخلص نوجوان جماعت احمدیہ کے لئے قابل فخر ہیں۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت میں ایسے بہت سے وجود پیدا کرے۔(۵) حفاظتِ ناموس رسول اللہ علیہ التحیات والصلوۃ اور حضرت امام جماعت احمد یہ اور چوہدری صاحب کی خدمات ایک ہندو نے ”رنگیلا رسول‘ نام ایک کتاب شائع کی۔اس کے ناشر راجپال کو ماتحت عدالت نے اس بناء پر سزادی کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین پر مشتمل ہے اور مسلمانوں کی اس سے دل آزاری ہوتی ہے۔لیکن مسٹر جسٹس کنور دلیپ سنگھ بیج ہائی کورٹ پنجاب نے یہ تسلیم کر کے بھی ملزم کو اس بناء پر بری کر دیا کہ دفعہ ۱۵۳۔الف کے متعلق میں یہ رائے قائم نہیں کرسکتا، کہ کسی گذشتہ مذہبی رہنما کی زندگی اور سیرت کے متعلق مخالفانہ بحث و تمحیص کو روکنے کے لئے وضع کی گئی تھی۔حالانکہ اسی زمانہ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اسی دفعہ کے تحت پنڈت کالی چرن شرما مصنف و چترن جیون کی سزا بحال رکھی تھی۔( الفضل ۳/۶/۲۷ص۳) اس فیصلہ پر حضرت امام جماعت احمدیہ ( ایدہ اللہ تعالیٰ نے بہت تکلیف محسوس فرمائی اور محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے قانونی مشورہ چاہا۔* نیز ایک اشتہار میں رقم فرمایا، کہ دیر سے مسیحی اور آریہ حضور صلعم کے خلاف زہرا گلتے چلے آرہے ہیں۔اور مسلمانوں کی غفلت کے باعث یہ لوگ اور بھی دلیر ہو گئے۔اور انہوں نے یقین کر لیا کہ مسلمان کی غیرت قصہ ماضی ہو چکی ہے۔اب تازہ رساله در تمان امرتسر سے شائع ہوا ہے جس میں حضور کے معراج سے متعلق ہتک آمیز پیرا یہ میں ڈرامہ لکھا ہے اور حضور اور حضور کی ازواج کے مطہرات کے اسماء مبارکہ تمسخرانہ رنگ میں بگاڑ کر لکھے حضور نے ۶/۲۷/ ۸ کو چوہدری صاحب کو تحریر فرمایا: یہ تحریر فرمائیں کہ رنگیلا رسول کے متعلق ہم کیا کر سکتے ہیں۔اس کے متعلق ضرور کچھ ہونا چاہیئے۔