اصحاب احمد (جلد 11) — Page 247
247 وو نوازا۔اسی طرح آپ کی بیگم صاحبہ محترمہ نے بھی اپنا قیمتی وقت عطا فرما کرمشن کے ساتھ دلی ہمدردی کا ثبوت بہم پہنچایا۔“ یہ ذکر کر کے کہ یہ پہلی بار تھی کہ ہالینڈ مشن کی کوئی تقریب ٹیلی وژن کے ذریعہ نشر ہوئی ہے۔ہیگ میں دوبارا ایمسٹر ڈم میں ہفتہ بار یہ ریکارڈ دکھایا گیا۔آپ لکھتے ہیں : پھر مکرم چوہدری صاحب بالقابہ کو مبلغین کرام کے ساتھ دکھایا گیا۔“ (الفضل ۲۸/۱۰/۵۸) مورخہ ۱۹/۹/۵۸ کی شام کو آٹھ بجے کا پہلا اجلاس یورپ میں تبلیغی مساعی پر غور وفکر کرنے کے لئے منعقد ہوا۔اس اجلاس کے لئے مکرم محترم چوہدری صاحب بالقالبہ کی خدمت میں درخواست کی گئی تھی کہ آپ اپنی زریں نصائح اور دعا کے ساتھ افتتاح فرما دیں۔چنانچہ آپ نے ہماری اس درخواست کو از راہ نوازش قبول فرماتے ہوئے اپنے نہایت قیمتی خیالات اور زریں نصائح سے مستفید فرمایا اور دعا فرمائی۔آپ نے منجملہ دیگر نصائح کے اس بات کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی کہ مبلغیین صاحبان کو کیتھولک صاحبان کی تاریخ کا پورے طور پر علم ہونا چاہیئے کہ یہ فرقہ آج تک کن کن حالات سے گزرا ہے۔اور کس کس رنگ کی تبدیلی اس میں پیدا ہوئی ہے۔یہ نظام عیسائیت کا سب سے اہم نظام ہے۔اور زمانہ وسطی کی نسبت آج بہت زیادہ مضبوط ہے۔ان کے تابعین بڑی پختگی کے ساتھ اپنے عقائد پر قائم ہیں۔اوریہ امر عین قرین قیاس ہے کہ تبلیغی دوڑ میں ہمارا آخری مقابلہ اسی فرقہ سے ہو۔لہذا اس کے متعلق ہماری معلومات بہت وسیع ہونی چاہیں۔پھر آپ نے عیسائیت کے دیگر مکاتیب فکر کا ذکر فرمایا اور بتلایا کہ آج کل ایک گروہ بڑی سرعت کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔جو کہ امریکہ میں عام ہے مگر یورپ میں بھی پاؤں پھیلا رہا ہے۔وہ آزاد خیال عیسائی ہیں جو کٹر عیسائی عقائد کے خلاف ہیں۔اور اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں۔درحقیقت یہ فرقہ لوگوں کو آہستہ آہستہ مذہب سے دور بلکہ دور تر کھینچتا چلا جارہا ہے۔بظاہر ان کا حملہ عیسائیت پر نظر آتا ہے مگر دراصل یہ حملہ مذہب پر ہے۔یہ گروہ اپنی آزادانہ روش کے پیش نظر سب سے زیادہ خطرناک ہے اور اس کا مقابلہ ہمیں سب سے پہلے کرنا ہوگا۔( نیز بتایا کہ یورپ کے مبلغین کے لئے فلسفہ و تاریخ ادیان کے علاوہ عربی، انگریزی، فرانسیسی و سپینش زبانیں بہت ضروری ہیں۔انہیں قرآن کریم کا پورا علم اور علم حدیث میں بھی پوری دسترس ہونی چاہیئے اور دعا کی عادت بھی پختہ ہونی چاہئے۔) دوسرے دن کے پبلک جلسہ میں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر تقریر کی