اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 244 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 244

244 انگریزوں سے قرآن مجید کی تلاوت پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔[ ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) بابت اگست ۱۹۳۴ء ( ص ۳۱۹ و ۳۲۰)۔(۳۴ ۱۹۳۳ء) معاملات کشمیر کے متعلق چوہدری صاحب نے ارباب حل و عقد سے ملاقات کر کے توجہ دلائی۔اتوار کے جلسوں میں مسجد فضل میں تقاریر کیں۔وہاں کی جماعت میں برادرانہ تعلقات مستحکم کرنے کے لئے ”سوشیل منعقد کرنے کا انتظام کیا گیا جو ناچ ، گانا اور قابلِ اعتراض تفریحات سے مبرا ہوں، دلچسپ کہانیاں مختصر تقاریر اور بعض تفریحی کھیل اس میں ہوں۔محترم چوہدری صاحب کی نوازش سے جماعت کو ایک تفریحی ٹرپ کا موقعہ ملا۔آپ تمام احباب کو ایک بس میں گلڈ فورڈ لے گئے۔جہاں تمام دن گزارا گیا۔* ۳۸۔۱۹۳۷ء کے متعلق مرقوم ہے کہ اس عرصہ میں دو دفعہ آپ لندن آئے۔اور آپ کے ذریعہ بہت سے انگریزوں کو سلسلہ کی تبلیغ ہوئی۔آپ کے اعزاز میں وسیع پیمانے پر مشن کی طرف سے دعوت چائے دی گئی۔جس میں اعلیٰ طبقہ کے لوگ مدعو تھے۔عید الاضحی کے متعلق مرقوم ہے کہ پونے سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمدیہ (۱۹۰ و ۱۹ و ۲۰) وہاں چندہ وصیت کی ادائیگی کا بھی ذکر ہے۔( ص ۱۹۳ و ۱۹۵) گول میز کانفرنس میں شرکت کے بعد جب دسمبر ۱۹۳۳ء میں مراجعت فرمائے ہند ہونے والے تھے۔تو انگلستان کے نو مسلموں کی طرف سے آپ کی خدمت میں ایک سپاسنامہ پیش کیا گیا۔جس میں ذکر تھا کہ ہم آپ کی جدائی سے ملول ہیں۔آپ اکثر مسجد میں آتے رہے۔اور آپ کی حیرت انگیز شخصیت نے ملنے والوں کو اپنا شیدا بنالیا۔اور آپ جماعت انگلستان کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں رہے۔متن میں مذکور ” سوشیل“ کا ذکر کر کے بیان کیا کہ مسجد سے باہر جماعت کے احباب کے میل جول کا یہ پہلا موقعہ تھا۔اس سے ہمارے درمیان ایسی روح پیدا ہوئی جو ہم مذہبوں کے درمیان ہونی چاہیئے اور یہ اسلامی اخوت اور مساوات کا ایک ثبوت تھا۔برلب سڑک با جماعت نماز پڑھتے دیکھنے والوں پر دین فطرت کا اثر ہوا ہوگا۔آپ نے برطانوی بہنوں بھائیوں میں سے اس کے لئے اپنی گرہ سے الفضل جاری کرانے کی پیشکش کی جو سب سے زیادہ اردو جانتا ہو۔آپ کی یہ تحریک ہمیں یہ احساس دلاتی رہے گی کہ ہمیں تراجم سے مطمئن نہیں ہونا چاہیئے۔اور اردو سیکھ کر براہ راست چشمہ سے سیراب ہونا چاہیئے۔اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات کا جو الفضل میں شائع ہوتے ہیں مطالعہ کرنا چاہیئے۔ہم احسان مند ہیں کہ آپ نے سلسلہ کی