اصحاب احمد (جلد 11) — Page 197
197 سیاسی تدبر اور تجربہ اور بین الاقوامی مسائل میں اپنی حیرت انگیز فراست و معاملہ نہی کے اعتبار سے فردِ واحد ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ ہندوستان اور دوسرے چند دیگر ممالک کی مخالفت کے باوجود بھی اقوام متحدہ کی کونسل بالآخر بھاری اکثریت سے ظفر اللہ خاں ہی کو اپنا صدر منتخب کرے گی۔جو ہر اعتبار سے بہ مقابلہ دیگر امیدواروں کے قابل ترجیح ہیں۔آپ کی ازدواجی زندگی : ۱۱۴ آپ کی پہلی شادی اپنی پھوپھی صاحبہ کے ہاں محترمہ اقبال بیگم صاحبہ سے ہوئی لیکن وہ جلد وفات پاگئیں۔پھر مرحومہ کی ہمشیرہ رشیدہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔وہ بھی بقضائے الہی وفات پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔آپ کی تیسری شادی محترمہ بدر بیگم صاحبه دختر چوہدری شمشاد علی صاحب متوطن صو بہ بہار ( مدفون بہشتی مقبرہ ) سے ہوئی۔ان کے بطن سے ایک صاحبزادی محترمہ امتہ الحی صاحبہ ہیں۔محترمہ بدر بیگم صاحبہ سے چند سال قبل علیحدگی ہوئی۔اور پھر چوہدری صاحب نے فلسطین کی ایک مہاجرہ محترمہ بشری ربانی بیگم صاحبہ سے شادی کر لی لیکن قریب میں آپس میں علیحدگی واقع ہو گئی ہے۔آخری شادی کے موقعہ پر ہندو پاک کے بہت سے اخبارات نے مخالفانہ خامہ فرسائی کی۔شام کے مفتی نے مذہبی تعصب کے باعث اس شادی کو ہی ناجائز قرار دیا۔* بچی کی ولادت کے متعلق آپ تحریر فرماتے ہیں: مئی ۱۹۳۶ء میں والدہ صاحبہ نے رویا دیکھا کہ کوئی خادم ایک طشتری لایا ہے۔جس میں آم ہفت روزه ریاست دہلی نے اس بناء پر اس شادی کو نا پسند کیا ، تا کہ آپ کی زندگی خدمتِ خلق کے لئے مصروف رہے۔سہ روزہ دعوت دہلی نے جو مودودی خیالات کا ترجمان ہے۔نے اس دوہرے عنوان کے ساتھ کہ کسی مسلمان لڑکی کی قادیانی سے شادی نہیں ہو سکتی۔قادیانی فرقہ اسلام سے خارج ہے۔علماء شام کا فتوی لکھا کہ: دمشق۔دمشق کے علماء نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر محمد ظفر اللہ خاں اور فلسطینی لڑکی بشری ربانی کی حالیہ شادی کو اسلام کی روشنی میں ناجائز قرار دے دیا ہے۔اخبار برضہ میں دمشق کے ایک ممتاز عالم شیخ محمد خیر قادری کا بیان شائع ہوا ہے۔جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام قادیانی فرقہ کو