اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 99 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 99

99 نے اپنی قبر کے مقام کا ذکر تو حضرت صاحب کو ہنسانے کے لئے کیا تھا۔اس موقعہ پر ہم آخر اپریل تک قادیان ٹھہرے۔والدہ صاحبہ کے خواب کی وجہ سے ہی میں نے یہ انتظام کیا تھا کہ ہم اپریل کا آخری نصف قادیان گزاریں۔اس عرصہ میں والدہ صاحبہ باوجود ضعف پیری کے اور خون کے دباؤ کی شکایت کے جو پھر عود کر آئی تھی ، پیدل جمعہ کی نماز کے لئے مسجد اقصی جاتی رہیں۔اور حضرت ام المومنین اور حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں حاضر ہوتی رہیں۔جمعہ کی نماز کے وقت چونکہ اچھی خاصی گرمی ہو جاتی تھی۔اس لئے جب مجھے معلوم ہوا کہ آپ جمعہ کی نماز کے لئے مسجد اقصیٰ گئی تھیں تو میں نے عرض کیا کہ اگر آپ مجھے اطلاع دیتیں تو میں سواری کا انتظام کرتا۔تو فرمایا نہیں بیٹا مسجد تک جانے میں کیا تکلیف ہے۔وو ” جب والدہ صاحبہ کو معلوم ہوا کہ حضرت خلیفتہ اسیح نے ۲۵ را پریل کو سندھ کی طرف روانگی کا ارادہ فرمایا ہے۔تو کچھ افسردہ سی ہو گئیں۔دو روز کے بعد معلوم ہوا کہ حضور ۲۷ را پریل کو قادیان سے روانہ ہوں گے تو خوشی خوشی مجھے بتایا کہ تم نے سنا حضرت صاحب ۲۷ کو روانہ ہوں گے؟ میں نے کہا ہاں میں نے بھی سنا ہے۔پھر دوبارہ مجھ سے کہا ۲۷ / تاریخ ہے۔میں نے کہا میں سمجھتا ہوں۔مراد ان کی یہ تھی کہ ۲۷ رکو آخری بدھوار اپریل کے مہینے کا ہے۔اور اگر اس سال میرا خواب ظاہری رنگ میں پورا ہونا ہے تو حضرت صاحب میرا جنازہ پڑھا کر قادیان سے روانہ ہوں گے۔۲۷ کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد وہ آخری بار مقبرہ بہشتی گئیں۔اس دن مجھ سے شکایت کی کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے جسم کے اندر حرارت ہے۔لیکن بظاہر اور کوئی تکلیف انہیں نہیں تھی۔غالباً اسی شام یا ۲۸ ر کی شام کو میرے ساتھ مندرجہ ذیل واقعہ کا ذکر کیا۔رحم دلی کا ایک واقعہ: فر مایا آج میں شہر سے واپس آرہی تھی۔باب الانوار میں دیکھا کہ ایک عورت سڑک کے کنارے پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہے اور دولڑکیاں اس کے پاس بیٹھی ہیں۔پہلے تو میں ان کے پاس سے گذر آئی لیکن چند قدم آگے آکر میرے ذہن میں آیا کہ اس عورت کو کچھ تکلیف ہے۔چنانچہ میں واپس آگئی اور اس عورت کے پاس بیٹھ گئی۔میں نے دیکھا کہ وہ خود بھی اپنا ایک پاؤں دبارہی ہے۔اور دولڑکیاں بھی اس کا پاؤں دبا رہی ہیں۔عورت درد سے کراہ رہی