اصحاب احمد (جلد 11) — Page 68
68 جماعت احمدیہ کی دوسری شوری ( منعقدہ ۱۹۲۳ء میں سید نا حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ادنی اقوام میں تبلیغ کی اہمیت واضح کی اور فرمایا کہ وہ بھی ہمارے بھائی ہیں ، ان کو ادنی انہیں سمجھنا چاہیئے۔اور یہ نہ خیال کریں کہ اگر یہ قومیں ترقی کر گئیں ، تو ہمارا کام کون کرے گا۔اور فرمایا کہ اگر یہ بقیہ حاشیہ: اس شوری میں جب یہ تجویز پیش ہوئی کہ حضور کی خدمت میں درخواست کی جائے کہ بڑے بڑے شہروں کا دورہ فرمائیں اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ یہ کسی جماعت کی خوش قسمتی ہے کہ حضور اس کے ہاں تشریف لے جائیں لیکن اس قسم کی تجویز پیش ہونا گستاخی ہے اور میں اس کی سخت مخالفت کرتا ہوں۔ایک بزرگ نے ( اشارۃ ) کہا کہ جن الفاظ میں مخالفت کی گئی ہے۔ان اصحاب کا اخلاقی فرض ہے کہ ان الفاظ کو واپس لیں۔چوہدری صاحب نے کہا کہ میں نے نیت پر حملہ نہیں کیا۔سب کمیٹی نے وہ الفاظ محبت و عشق کے جوش میں پیش کئے ہیں۔مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ محبت کے جوش میں گستاخی نہیں ہو سکتی لیکن چونکہ فلاں صاحب نے فرمایا ہے کہ میں ان الفاظ کو واپس لوں ، اس لئے میں اُن کا احترام کرتا ہوا ان الفاظ کو واپس لیتا ہوں تا کہ کسی کے جذبات کو صدمہ نہ پہنچے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس بارہ میں فرمایا کہ چوہدری صاحب کا مطلب یہ نہ تھا کہ سب کمیٹی کی نیت ہتک کرنے کی تھی۔انہوں نے صرف الفاظ کو نا پسندیدہ قرار دیا تھا۔میں چوہدری صاحب سے اس بات میں متفق ہوں کہ تجویز کے الفاظ موقعہ کے لحاظ سے ہتک آمیز تھے کیونکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ جماعت خلیفہ کے دروازہ پر جائے اور جا کر کہے کہ آپ تبلیغ کے لئے باہر نکلیں۔خاکسار مؤلف کو پوری طرح علم ہے کہ الفاظ واپس لینے کے لئے کہنے والے بزرگ (مرحوم) اور چوہدری صاحب کے تعلقات ہمیشہ بہت ہی خوشگوار ر ہے۔فالحمد للہ علی ذالک ۴۶ ۱۹۲۷ء ( صفحه ۱۳۳) ۱۹۲۸ء ( صفحه ۴۰ ) ۱۹۳۲ء ( صفحه ۲۴) ۱۹۳۳ء (صفحه (۲۱) ۱۹۳۴ء (صفحه ۲۲) اپریل و اکتوبر ۱۹۳۶ء ( صفحه ۱۳،۴۸) ۱۹۳۷ء تا ۱۹۴۱ء ( صفحه ۳۵، ۱۹، ۲۶، ۲۷، ۲۱)۔۱۹۴۳ء (صفحہ ۱۷) ۱۹۴۴ء ( صفحه ۳۴) ۱۹۴۶ء تقسیم ملک کے بعد چوہدری صاحب ان پندرہ سالوں کو اکثر حصہ یورپ و امریکہ میں رہے ہیں۔۱۹۵۵ء کے اجلاس کی صدارت کے لئے حضور نے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے نہ آنے کی صورت میں ان کے بھائی چوہدری محمد عبد اللہ خاں صاحب مرحوم (امیر جماعت کراچی ) کو مقررفرمایا تھا لیکن دونوں ہی شامل نہیں ہو سکے۔