اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 24 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 24

24 میر حامد شاہ صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہما سے مرحوم کو محبت تھی۔وہ ان کی مجلسوں اور صحبتوں میں آتے جاتے اور چوہدری صاحب ان کے درس قرآن میں شریک ہوتے تھے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے بہت اخلاص تھا اور حضرت مخدوم الملت کے دل میں چوہدری صاحب کی محبت اور اخلاص کا ایک گہرا اثر تھا۔وہ ہمیشہ اپنی دعاؤں میں اس وجود کے شریک جماعت ہونے کے لئے تڑپ رکھتے تھے۔اور کوئی موقعہ نہ جانے دیتے جبکہ تحریک نہ کرتے رہتے ہوں۔انہوں نے مجھے فرمایا کہ میں سمجھ نہیں سکتا کہ نصر اللہ خاں اس سلسلہ سے علیحدہ رہے۔غالبا ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ضرورت امام کتاب لکھی اور جب اس کا مسودہ کا تب نے ختم کیا تو حضرت مخدوم الملت کا ایک مکتوب مخدومی چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کے نام کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر سے اتفاقاً گزرا۔حضور نے پسند فرمایا کہ وہ مکتوب ضرورت امام کے ساتھ شائع ہو جائے۔چنانچہ وہ مکتوب ضرورتِ امام کے آخر میں درج ہے۔اس میں چوہدری صاحب کو مخدوم الملت نے خصوصیت سے دعوت دی۔اس خط کے بعد چوہدری صاحب کی طبیعت میں ایک عجیب انقلاب واقع ہوا۔اس خط کا اثر خصوصیت سے ان پر ہوا۔لیکن بعض حالات کی وجہ سے ان کی بیعت میں توقف ہوا۔اور یہ تو قف اس اسباب پر موقوف نہ تھا، جو مخالفت یا شک وشبہ کے اثرات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔بلکہ وہ ایک دقیقہ رس دل کے ( ساتھ ) اس امر کا مطالعہ کر رہے تھے کہ سلسلہ میں داخل ہو کر کن قربانیوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے وہ کہاں تک تیار ہیں۔جن ایام میں یہ کشمکش ان میں اندرونی طور پر جاری تھی ، وہ سیالکوٹ میونسپلٹی کے وائس پریذیڈنٹ تھے۔ان ایام میں کسی میونسپلٹی کا عہدہ وائس پریذیڈنٹی معمولی عہدہ نہ ہوتا تھا۔پریذیڈنٹ ہمیشہ ڈپٹی کمشنر ہوتا تھا۔اسلئے وائس پریذیڈنٹ کی پوزیشن بہت بڑی سمجھی جاتی تھی۔اور کوئی مسلمان جب تک وہ ہندومسلم ہر دو جماعتوں میں یکساں معزز اور بارسوخ نہ ہو منتخب نہیں ہوسکتا تھا۔چوہدری صاحب عرصہ دراز تک اس عہدہ پر رہے۔اور وہ ہندو مسلمان دونوں قوموں میں یکساں ہر دلعزیز تھے اور دونوں قو میں ان پر اعتماد رکھتی تھیں۔لیکن جب چوہدری صاحب نے بیعت کر لی تو آپ نے اس عہدہ سے استعفیٰ دیدیا۔وو وہ زمانہ سلسلہ احمدیہ کے لئے نہایت ابتلاء کا زمانہ تھا۔جب چوہدری صاحب سلسلہ میں