اصحاب احمد (جلد 11) — Page 253
253 اخبارات کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ایک احمدی کی دعوت اور ایک جماعتی دعوت چائے میں شرکت کی اور ہر موقعہ پر تبلیغ کی۔مؤخر الذکر موقعہ پر معززین کے علاوہ ہر ایسیلینسی بیرن پیرنی محافظ بقیہ حاشیہ: بعض امور کا ذکر نہیں کیا۔مثلاً علامہ کے والد ماجد کے ابتداء میں احمدی ہونے کا اور ان کی وجہ سے علامہ کے احمدی ہونے یا نہایت سرگرمی سے اس کی مدافعت کرنے والوں میں شامل ہونے کا۔اب ذیل میں ہر سہ ادوار کا تفصیلاً ذکر کرتا ہوں : (۱) علامہ اقبال کے والد ماجد جماعت احمدیہ میں شامل تھے۔بعد میں کسی مقامی اختلاف کے باعث وہ جماعت سے الگ ہو گئے۔سالک صاحب نے علامہ صاحب کے والد بزرگوار کے ایک کشف کا ذکر کیا ہے۔اور یہ کہ وہ ایک بہت بڑے صوفی تھے اور اسی وجہ سے علامہ کے ذہن کا وجدانی کیفیات کے لئے خوب آمادہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔(ص۱۲ تا ۱۴) لیکن والد ماجد کے ابتداء میں جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کا ذکر ترک کر دیا ہے۔کیونکہ اس سے احمدی عقائد کی صحت کو تائید حاصل ہوتی تھی کہ ایک صوفی صاحب کشف شخصیت جس کے تصوف کا اثر اس کے فرزند علامہ اقبال کے وجدان پر پڑا احمدی تھا۔پھر علامہ کے آخر عمر میں احمدیت کا مخالف ہونا باعث تعجب نظر آئے گا۔ورنہ بظاہر یہ امر باور نہیں کیا جا سکتا کہ ساری عمر کے ساتھی اور ہمنشین مولانا سالک کو علامہ سے ان کے والد کے احمدی ہونے کا علم نہ ہوا ہو۔یا یہ بھی دریافت نہ کیا ہو کہ علامہ صاحب ! آپ کے برادر اکبر کیونکر احمدی ہو گئے۔اور اس سے بات چل نکلی ہو کہ ایک وقت ان کے والد بھی احمدی ہو گئے تھے۔یا یہ پوچھا ہو کہ اب ایسی مخالفت کیوں جبکہ آپ نے اپنے بڑے بیٹے کو تعلیم کے لئے سالہا سال تک قادیان میں رکھا۔ایک اور درویش سے والد کی بیعت کا ذکر کیا لیکن حضرت مرزا صاحب کی بیعت کا ذکر ترک کیا۔(۲۴۸) اس دور اول کا واقعہ ہے کہ ایک نومسلم شیخ سعد اللہ لدھیانوی نے حضرت مرزا صاحب کے خلاف گندہ دہانی کا مظاہرہ کیا۔اور جوشِ مذہب میں علامہ اقبال نے جو اس وقت کالج میں ایف اے کے طالبعلم تھے، ایک نظم لکھی ، اور اس نظم کا لکھنا ہی ثابت کرتا ہے کہ نو جوان اقبال کو حضرت مرزا صاحب سے گہری وابستگی تھی اور وہ سعد اللہ کی گندہ دہانی برداشت نہ کر سکا۔اور اسے چین نہ آیا جب تک اس نے مدافعت میں اس کا منظوم جواب لکھ کر حق ارادت ادا نہ کر دیا۔(۱۸۹۵ء میں علامہ بی۔اے میں داخل ہوئے۔(ص ۱۷)۔گو یا اوائل ۱۸۹۵ء سے پہلے کی یہ نظم ہے۔اور اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اس وقت تک علامہ صاحب کے والد صاحب جماعت میں شامل تھے۔ورنہ گر