اصحاب احمد (جلد 11) — Page 239
239 ۱۹ ر ا پریل ۱۹۴۶ء کو بروز جمعہ کیا۔ڈاکٹر موصوف نے ایڈریس کے جواب میں حضور اور چوہدری صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی ذکر کیا کہ چوہدری صاحب نے اس امر کے لئے قادیان آنے کی دعوت دی تھی۔اور یہ بھی ذکر کیا کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ہندوستان میں یہ دوسرا ادارہ ہے۔(الفضل ۲۳٫۴٫۴۶) (۸) تربیت و تبلیغ اور اعلائے کلمتہ اللہ آپ کے قلب صافی میں جذبہ اعلائے کلمۃ اللہ کا ایک بحر مواج موجزن ہے۔گول میز کانفرنس وغیرہ کے مواقع پر باوجود انتہائی مصروفیتوں کے آپ نے ہمیشہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے وقت نکالا۔آپ نے صدر جمہوریہ امریکہ کو قرآن مجید کا ہدیہ پیش کر کے اسلام کی دعوت دی۔کیا اسلامی ممالک کے بلاک اور صدر صاحبان اور وزراء اعظم میں سے کسی کو اس کی توفیق نصیب ہوئی؟ کبھی آپ نے سنا کہ فلاں ملک کے مسلمان وزیر اعظم نے امریکہ، جرمنی ،انگلستان وغیرہ میں اسلام کے محاسن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محامد پیش کئے ؟ ہر گز نہیں۔عصر حاضر میں جری اللہ فی حلل الانبیاء حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی زندہ اسلام اور اس کے زندہ رسول کو پیش کیا۔اور اپنی زندگی میں دیگر مذاہب کے رہنماؤں کو اور ملکہ وکٹوریہ کو دعوت اسلام دی۔اور پھر جماعت احمدیہ نے عوام و خواص تک دعوتِ اسلام پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ان لوگوں کو غور کرنا چاہیئے۔جن کا کام احیاء اسلام نہیں بلکہ کفر کے فتاویٰ جاری کر کے بعض افراد کی موت کا اعلان کرنا ہے۔یہ لوگ اسلام کو ایک قبرستان ظاہر کرتے ہیں جہاں گویا صرف مردوں ނ واسطه ہے اور يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (سورة الانفال) کا عملی منظر پیش کرنے سے یہ لوگ قاصر ہیں۔ہفت روزہ موقر " رفتار زمانہ لاہور رقمطراز ہے: فارغ اوقات میں تبلیغ اسلام آپ کا محبوب مشغلہ ہے اور دنیائے اسلام کا یہ واحد عظیم سیاستدان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلتے دیکھنے کو مانند سیماب بے قرار ہے۔اور اس بے قراری کی تسکین کے لئے ہر خاص و عام کو حق وصداقت کے سندیسے