اصحاب احمد (جلد 11) — Page 11
11 وارد ہوگئی جو دا تا زید کا میں ہوئی تھی۔اسی طرح خون آیا اور وہ جلد اپنے مولیٰ کے پاس چلا گیا۔آپ کی گود چوتھی بار پھر خالی ہو گئی۔لیکن آپ نے خوشی خوشی اللہ تعالیٰ کی رضا کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ تو نے ایک عاجز انسان کی زاری پر ، اسکے حال پر رحم فرمایا اور اسکی آبرو کی حفاظت کی۔ایک سال بعد ایک بچی پیدا ہو ئی۔اس کی ولادت سے قبل آپ کو خواب آیا کہ وہی جے دیوی آئی ہے اور خواب میں چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کی ساس صاحبہ نے اُسے کہا کہ اب تم ہمارے گھر آنا چھوڑ دو تو اُس نے جواب دیا کہ تیرہ دن اور سولہ دن آؤں گی۔پھر نہ آیا کروں گی۔چنانچہ پورے تیرہ روز بعد لڑ کی پیدا ہوئی اور سولہ دن زندہ رہ کر مر گئی۔اسکے بعد پھر آپ نے اسے خواب میں دیکھا۔اس شام آپ نے گائے کا گوشت کھایا تھا۔خواب میں وہ مکان کے صحن میں پہنچی تو واویلا کرنے لگی۔اور یہ کہتے ہوئے واپس چلی گئی : وا بگورو! وا بگورو! میں تمہارے مکان میں کبھی قدم نہ رکھوں گی۔تم نے تو گائے کا گوشت کھایا ہے۔گئو ہتیا کی ہے۔“ ولادت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب: جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب چھٹے بچے تھے۔ان کی ولادت ۶ فروری ۱۸۹۳ء کو بمقام سیالکوٹ ہوئی۔گزشتہ خواب کے سات ماہ بعد آپ کی والدہ صاحبہ نے پھر اسے خواب میں دیکھا۔اس نے بتایا کہ فلاں وقت لڑکا پید ا ہوگا۔لیکن ساتھ ہی کہا کہ بعض احتیاطیں ضروری ہیں۔ایک تو یہ کہ پیدا ہوتے ہی لڑکے کی ناک اور کان چھید دینا ، اور اونٹ کا بال چھید میں ڈال دینا۔دوسرے ایک چراغ آئے اور گھی اور ہلدی کا بنا کر کل رات اپنے مکان کی سب سے اوپر کی منزل کی چھت کے اُس کونے میں جہاں چیل بیٹھا کرتی ہے ، جلا دینا۔اگلی رات دس بجے کے وقت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب پیدا ہوئے۔ان کے والد صاحب خواب کے مطابق ناک کان چھید نے لگے تو انکی والدہ صاحبہ نے ایک بلند آوازسنی : تو بہ کرو۔استغفار کرو۔“ یہ آواز سنتے ہی بچے کی والدہ نے اپنے خاوند کے ہاتھ سے اونٹ کا بال اور سو ئی چھین لئے اور کہا کہ میں ایسا ہر گز نہ کرنے دوں گی۔لیکن خاوند غضبناک ہوکر اصرار کرنے لگے۔بچے کی والدہ