اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 184 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 184

184 رہے ہیں۔اور فلاں معاملہ کو کھٹائی میں ڈال رہے ہیں۔۸۹ ے۔ابتدا میں جب مرزائی تحریک کا پروپیگنڈ ا شروع ہوا تو ایک ضرورت یہ بھی پیش آئی کہ ایسے لوگوں کو مرزائیت کے حلقہ ارادت میں شامل کر دیا جائے جن کی سرکاری پوزیشن اس قابل ہو کہ لوگ دیکھ کر متوجہ ہوں۔سر ظفر اللہ سرکاری آدمیوں میں سے ایک ہیں۔ستمبر تا نومبر ۱۹۴۷ء کے چوہدری صاحب کے ایک عزیز کے نام خطوط زمیندار نے شائع کر کے اعتراض کیا کہ آپ حکومت پاکستان سے تنخواہ لے کر احمدی احباب سے کیوں ملتے رہے اور امام جماعت احمدیہ کے حکم کو حکومت پاکستان کے احکام پر ترجیح دی ( حالانکہ بوقت تحریر خطوط آپ ابھی وزیر خارجہ مقرر نہیں ہوئے تھے بلکہ ۲۷/۱۲/۴۷ کو مقرر ہوئے۔اور بوجہ تقسیم ملک قادیان جن مصائب سے گذر رہا تھا۔اسکے متعلق فکر کرنا کیوں قابلِ اعتراض تھا۔جبکہ وہاں آپ کا مکان تھا اور بعض عزیز واقارب بھی مقیم تھے۔اور اسی خط میں آپ نے لکھا ہے کہ حضرت ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ کام ختم ہوتے ہی واپس آؤں۔گویا کام چھوڑ کر آنے کا ارشاد نہیں۔احراری رہنما شیخ حسام الدین نے اپنی تقریر میں وزیر اعظم اور کمشنر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: ’ ہم صاف صاف کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے کسی گوشہ میں مرزائیوں کا کوئی عوامی جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔- ۹۳ ۱۰ روز نامه ”زمیندار“ لاہور لکھتا ہے کہ کراچی کے ہنگامے کا باعث احمدی مقررین کی غیر زمہ دارانہ تقریریں تھیں۔حالانکہ کمشنر کا بیان ہے کہ انعقاد جلسہ سے قبل ہی پولیس کو تاریں اور خطوط موصول ہورہے تھے کہ احمدیوں کے جلسہ میں شورش برپا کی جائے گی۔۹۴ ہفت روزہ ” ساغر کراچی نے روزنامہ ”زمیندار کی مذموم روش پر کڑی تنقید کی اور یہ بھی ذکر کیا کہ تمام مصری اخبارات نے چوہدری صاحب کی خدمات کی تعریف کی ہے۔اور انہیں دنیائے اسلام کا ہیرو قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ میں مسائل نہر سویز ، فلسطین ،سوڈان ، ایران کے مسئلہ تیل ، آزادی لیبیا و تونس پر آپ نے جو پُر مغز تقاریر کیں، وہ اپنی جگہ پر بے مثل ہیں۔یہ ان کی بلند پایہ قانون دانی، دلکش خطابت اور نقطہ نظر کی قوت اور معقولیت کا ثبوت ہے کہ ساری دنیائے اسلام انہیں اپنے حقوق کا ترجمان و محافظ سمجھتی ہے۔ہمیں فخر ہے کہ سارا عالم اسلام چوہدری صاحب کا احترام