اصحاب احمد (جلد 11) — Page 175
175 وو ظفر اللہ کے خلاف ایجی ٹیشن۔۔سب کچھ ذاتی اغراض اور خواہشات کو بروئے کار لانے کے لئے کیا جارہا ہے بحیثیت وزیر خارجہ کے چوہدری صاحب نے ایک عظیم الشان کام سرانجام دیا ہے۔اور اپنی ٹھوس خدمت کی وجہ سے ان کا شمار معماران پاکستان کی صف اول میں ہونے کے قابل ہے۔۔جب فضیلت ناب غلام محمد کو گورنر جنرل کا عہدہ تفویض کیا گیا اور آپ کی جگہ ممالک اسلامی کی اقتصادی کا نفرنس کی صدارت کا مسئلہ در پیش تھا تو ہر مسلم ملک نے بلا استثناء اس اعزاز کے لئے چوہدری ظفر اللہ خاں کا نام ہی تجویز کیا۔۔۔ظفر اللہ خاں نے کبھی کسی عہدے کے لئے درخواست نہیں کی۔اور دو موقعوں پر جب پاکستان کی نیابت کا سوال اٹھا۔قائد اعظم کی نظر آپ پر پڑی۔۔یہ کھلا راز ہے کہ ظفر اللہ خاں نے اس عہدہ کو قبول کرنے میں بڑی ہچکچاہٹ ظاہر کی۔قائد اعظم کے جواب میں آپ نے کہا اگر میری قابلیت ، دیانت و امانت پر پورا اعتماد ہے تو میں وزارت کے علاوہ کسی اور صورت میں پاکستان کی خدمت کرنے کو تیار ہوں۔اس پر قائد اعظم نے یہ تاریخی جواب دیا۔” آپ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مجھ سے ایسے جذبات کا اظہار کیا ہے۔مجھے پتہ ہے کہ آپ عہدوں کے بھوکے نہیں۔۔۔وو مرکزی کا بینہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ وہ خلا جو ظفر اللہ خاں کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے پیدا ہو گا۔اس کا پر کرنا نا ممکن ہوگا۔ان کے استعفیٰ کی خبر سے روشن خیال عوام کو سخت دھکا پہنچا تھا۔“ (ترجمہ) اخبار ” حکومت کراچی لکھتا ہے : ستمبر ۱۹۴۷ء میں اقوامِ متحدہ میں فلسطین کے سلسلہ میں پاکستانی وفد کی قیادت کے لئے بھی قائد اعظم کی نگاہ انتخاب آپ پر پڑی۔۱/۱۰ اکتوبر کو فلسطین کی تقسیم کا مسئلہ اس انداز سے پیش کیا کہ اقوام متحدہ کے وہ ممبران جو فلسطین کی تقسیم پر ادھار کھائے بیٹھے تھے۔آپ کی فی البدیہ، مدلل اور مسکت تقریر سے ایسے مسحور ہوئے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے گریز کرنے لگے کہ اس طرح کی ناموری کا باعث ہوئی بلکہ دنیا کی تمام پسماندہ اور مظلوم قوموں کا سہارا بھی بنی۔بایں ہمہ یہ کامرانی آپ کی قدرتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا سبب بھی ہوئی۔آپ کی تدبر ، معاملہ نہی اور کارکردگی پر قائد اعظم کو بھی فخر رہا۔جس کو ان کی زندگی کی ساری