اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 172 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 172

172 محترم ایڈیٹر ہفت روزہ ”ریاست“ دہلی لکھتے ہیں کہ : ایک اہل الرائے دوست کے قول کے مطابق پاکستان (میں ) صرف سر ظفر اللہ خاں کو ہی صف اول کے لیڈروں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔مگر آپ احمدی ہونے کے جرم میں سیاسی میدان سے 66 نکال دئے گئے یا نکل جانے پر مجبور ہوئے۔اور باقی تمام لیڈ رصف دوم یا صف سوم کے لیڈر ہیں۔“ ایک مسئلہ کے متعلق مقابل ملک کو التوا کی درخواست کر کے اپنے ملک میں واپس آنا پڑا۔اس کے متعلق لنڈن ٹائمنر مقالہ افتتاحیہ میں لکھتا ہے: امن کونسل میں بحث نے جو رخ اختیار کیا۔اس سے تخیل اور فکر کو سخت صدمہ پہنچا ہے۔۔ا پنے کیس کو اس درجہ مضبوط خیال کرتا تھا کہ گویا وہ ہر قسم کی تردید و تغلیط سے باہر تھا اور اسے یقین تھا کہ جمعیت اقوام فوری طور پر پاکستان کو سرزنش کرے گی اور۔۔۔کے معاملہ کو سلجھانے میں کو آزاد چھوڑ دے گی لیکن چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں نے کمال قابلیت سے پاکستان کی طرف سے اس طرح صفائی پیش کی کہ اس کونسل کے اکثر ممبران پر واضح ہو گیا کہ۔۔۔کی طرف سے معاملات کو مکمل صورت میں پیش نہیں کیا گیا۔پاکستان کے وزیر خارجہ نے۔۔۔۔وضاحت اس درجہ مؤثر انداز میں کی کہ کونسل اس کے استدلال سے مرعوب ہوگئی۔“ آپ کی تنظیمی اہلیت کا ابن نیاز فاروقی کے ذیل کے بیان سے علم ہوتا ہے: محمد ظفر اللہ خاں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں ریلوے اور کامرس کے ممبر تھے۔ان کے ماتحت کسی افسر اعلیٰ نے اپنے ایک آفس سپر نٹنڈنٹ کا تبادلہ رکوانے کے لئے بڑے زور دار الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر سپرنٹنڈنٹ کو تبدیل کیا گیا تو میرے لیے دفتری کاروبار کا سرانجام دینا بڑا مشکل ہو جائے گا۔فائل جب آپ کے رو برو پیش ہوئی۔تو آپ نے اس پر لکھا :۔سپرنٹنڈنٹ کو تو بہر حال تبدیل کر دیا جائے۔اور متعلقہ افسر چونکہ اس کے بغیر کام چلانے سے معذوری ظاہر کرتے ہیں۔ان کے لئے بہتر ہے کہ ریٹائر ہو جائیں۔تاکہ ان کی بجائے کوئی موزوں اور مستعد آدمی لگایا جا سکے۔“ پھر تو غالباً یہی ہوا ہو گا۔کہ چھوڑ و جی سپرنٹنڈنٹ کو ع 21 سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔