اصحاب احمد (جلد 11) — Page 171
171 سے بڑی مصیبت کو لبیک کہنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔چنانچہ آپ کا پاکستان کے وزیر خارجہ ہوتے ہوئے مرحوم مسٹر جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہونا ایک ایسی جرات تھی جس پر بڑی سے بڑی قوت ارادی کے لوگوں کو بھی سر جھکا دینا چاہیئے۔آپ کی مذہبی مساوات کی سپرٹ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ اسلامی شعار کے سختی سے پابند ہیں۔کبھی بھی نماز کو قضا نہیں ہونے دیتے۔آپ کی کوٹھی پر جب بھی نماز ہو تو نماز پڑھانے کے فرائض آپ کے ایک باور چی ادا کیا کرتے ہیں یعنی کہ آپ اپنے باورچی کی امامت میں نماز پڑھتے ہیں کیونکہ یہ باور چی مذہبی اعتبار سے ایک بلند مسلمان ہیں۔۔۔اور آپ سیاسی اعتبار سے بین الاقوامی اعتبار سے ایک بلند ترین پوزیشن رکھتے ہوئے بھی اپنے دوستوں سے بغل گیر ہونا اپنا ایک فرض ، شعار اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔“ ( مورخہ ۲۸/۵/۵۶) اسی طرح ہندوروز نامہ ملاپ لا ہور نے لکھا: " عام مسلمانوں کے اس شور میں مجھے کوئی وزن نظر نہیں آتا کہ چونکہ چوہدری ظفر اللہ خاں مرزائی ہیں ، اس لئے انہیں وائسرائے کی کونسل کا ممبر بنایا گیا ہے۔میرا خیال ہے کہ یہ تقرر چوہدری صاحب کی۔قابلیت اور لیاقت کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔یہ کم افسوس کی بات نہیں کہ مسلمانوں میں غیر معمولی لیاقت کے لوگ بہت کم ہیں اور ان میں چوہدری ظفر اللہ خاں نے پچھلے چند 4961 موقعوں پر اپنی غیر معمولی ذہانت کا ثبوت دیا تھا۔اسی لئے ان کو مسلمانوں میں سے منتخب کر لیا گیا۔اسی طرح یہ روز نامہ آپ کی قابلیت کا اعتراف یوں کرتا ہے: پنجاب کے گول میزی ممبران نے تقریر میں شروع کر دی ہیں۔بسم اللہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے کی۔اور ہندوستان کو جو کچھ ملنے والا ہے۔اس آئین کے ڈھانچہ کی ایک نامکمل تصویر کھینچ کر حاضرین کے سامنے رکھ دی ہے۔چوہدری صاحب کی یہ پہلی ہی تقریر تھی جو میں نے سنی۔وہ خوب بولتے ہیں۔ٹھیک اسی طرح جس طرح مسٹر گو کھلے بولتے تھے۔کوئی مد و جزر نہیں۔کوئی اتار چڑھاؤ نہیں۔موسم سرما کے دریا کی طرح نہایت خوبصورتی سے ایک ہی روانی سے ان کی تقریر بہتی چلی جاتی ہے۔چو ہدری ظفر اللہ خاں صاحب لندن سے واپس آکر لیکچر دئے جائیں اور پنڈت نانک چند صاحب خاموش رہیں یہ ناممکن تھا۔انہوں نے بھی لیکچر دیا۔* مورخه ا فروری ۳۳، بحواله الفضل ۱۴ فروری ۳۳ ، چوہدری صاحب نے تقریر عبداللہ یوسف علی صاحب مرحوم ( پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور و مترجم قرآن مجید انگریزی ) کی صدارت میں کی تھی۔