اصحاب احمد (جلد 11) — Page 163
163 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس ہدایت پر باقاعدہ عمل کرتی رہوں گی۔اور سلطنت برطانیہ کے قیام اور اس کی بہبود کے لئے متواتر دعا کرتی رہی ہوں۔لیکن دو سال کے عرصہ سے پنجاب کی حکومت کا ہماری جماعت کے ساتھ برتاؤ کچھ ایسا غیر منصفانہ ہو گیا ہے اور ہمارے ساتھ اور ہمارے امام اور ہماری جماعت کو ایسی ایسی تکالیف پہنچ رہی ہیں کہ دعا تو میں اب بھی کرتی ہوں ، کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم ہے۔لیکن اب دعا دل سے نہیں نکلتی کیونکہ میرا دل خوش نہیں ہے۔”ابھی چند دن کا ذکر ہے کہ ایک آوارہ اور شہدے شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے اور ہمارے امام کے چھوٹے بھائی پر حملہ کر دیا اور انہیں ضربات پہنچائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہمیں اپنی جانوں سے بھی پیاری ہے۔اور میں نے جب سے اس واقعہ کی خبر سنی ہے۔میں نہ کھا سکتی ہوں نہ پی سکتی ہوں۔نہ مجھے نیند آتی ہے۔یہ فقرے والدہ صاحبہ نے کچھ ایسے درد سے کہے کہ لیڈی ولنگڈن کا چہرہ بالکل متغیر ہو گیا۔اور انہوں نے جھنجلا کر وائسرائے صاحب سے دریافت کیا کہ یہ کیا واقعہ ہے۔اور آپ نے کیوں مناسب انتظام نہیں کیا ؟ وائسرائے صاحب نے جواب دیا۔میں نے ظفر اللہ خاں کے ساتھ تفصیلاً اس کے متعلق گفتگو کی ہے۔اور والدہ صاحبہ سے مخاطب ہو کر کہا۔اصل بات یہ ہے کہ یہ امور گورنر صاحب پنجاب کے اختیار میں ہیں۔اور میں ان کے متعلق ان کے نام کوئی حکم جاری نہیں کر سکتا۔اگر میں ان معاملات میں دخل دوں تو وہ برا منائیں گے۔جب میں خود بمبئی یا مدراس کا گورنر تھا، اگر اس وقت کے وائسرائے ایسے معاملات میں میرے نام کوئی حکم جاری کرتے ،تو میں بھی بر امنا تا۔”والدہ صاحبہ نے فرمایا۔میں آپ سے یہ نہیں چاہتی کہ آپ ان کے نام کوئی حکم جاری کریں یا سختی سے کام لیں۔لیکن آخر ان کے کام کی نگرانی بھی تو آپ ہی کے سپرد ہے۔آپ انہیں نرمی اور محبت سے سمجھائیں کہ وہ ہماری شکایات کو رفع کریں۔وائسرائے نے کہا۔ہاں ، میں ایسا ضرور کروں گا۔لیکن لیڈی ولنگڈن کا جوش وائسرائے کے اس جواب سے ٹھنڈا نہ ہوا۔وہ والدہ صاحبہ کے ہاتھ دبا تیں اور محبت کے کلمات سے ان کو مخاطب کرتیں اور بار بار کہتیں۔میں خود پنجاب کے گورنر کوسمجھاؤں گی۔آپ گھبرائیں نہیں۔میں اس کو سرزنش کروں گی ، اور مجھ سے اصرار کے ساتھ