اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 158 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 158

158 نے جو میری اس بات کو نا پسند کیا ہے۔اس کی سزا یہ ہے کہ یہ کپڑے جب تیار ہو جائیں تو تم ہی لے کر جانا۔اور اس شخص کے گھر پہنچا کر آنا۔لیکن لے جانا رات کے وقت تا کہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ میں نے بھیجے ہیں۔ورنہ دوسرے احراری اسے دق کریں گے کہ تم نے احمدیوں سے یہ اشیاء کیوں لیں۔انہی ایام میں ہمارے گاؤں کے ایک سا ہو کا رنے ایک غریب کسان کے مویشی ایک ڈگری کے سلسلہ میں قرق کر لئے۔یہ کسان بھی احراری تھا۔قرق شدہ مویشیوں میں ایک بچھڑی بھی تھی۔قرقی کے وقت کسان کے کم سن لڑکے نے بچھڑی کی رسی پکڑ لی۔یہ پچھڑی میرے باپ نے مجھے دی ہوئی ہے۔میں یہ نہیں لے جانے دوں گا۔ڈگری دار نے یہ بچھڑی بھی قرق کرالی۔اس سے چند روز قبل اسی کسان کی ایک بھینس کنوئیں میں گر کر مرگئی تھی۔یہ بھی مفلس آدمی تھا اور یہ مویشی ہی اس کی پونجی تھی۔والدہ صاحبہ ان دنوں ڈسکہ ہی میں مقیم تھیں۔جب انہیں اس واقعہ کی خبر پہنچی تو بے تاب ہوگئیں۔بار بار کہتیں۔آج اس بیچارے کے گھر میں ماتم کی صورت ہوگی۔اس کا ذریعہ معاش جاتا رہا۔اس کے بیوی بچے کس امید پر جئیں گے۔جب اس لڑکے کے ہاتھ سے قارق نے بچھڑی کی رسی لے لی ہوگی تو اس کے دل پر کیا گزری ہوگی ! پھر دعا میں لگ گئیں کہ یا اللہ تو مجھے تو فیق عطا کر کہ میں اس مسکین کی۔اور اس کے بیوی بچوں کی اس مصیبت میں مدد کر سکوں۔میاں جماں کو بلایا ( یہ تین پشت سے ہماری اراضیات کے منتظم چلے آتے ہیں )۔اور کہا آج یہ واقعہ ہو گیا ہے۔تم ابھی ساہوکار کو بلا کر لاؤ۔میں اس کے ساتھ اس شخص کے قرضہ کا تصفیہ کروں گی اور ادائیگی کا انتظام کروں گی۔تا شام سے پہلے پہلے اس کے مویشی اسے واپس مل جائیں۔اور اس کے بیوی بچوں کے دلوں کی ڈھارس بندھے۔میاں جماں نے کہا کہ میں تو ایسا نہ کروں گا۔یہ شخص ہمارا مخالف ہے۔ہمارے دشمنوں کے ساتھ شامل ہے۔والدہ صاحبہ نے خفگی سے کہا : تم مل جولاہ کے بیٹے ہو۔اور میں چوہدری سکندر خاں کی بہو اور چوہدری نصر اللہ خاں کی بیوی اور ظفر اللہ خاں کی ماں ہوں۔اور میں تمہیں خدا کے نام پر ایک بات کہتی ہوں اور تم کہتے ہو کہ میں نہیں کروں گا۔تمہاری کیا حیثیت ہے کہ تم انکار کرو۔جاؤ جو میں حکم دیتی ہوں فورا کرو۔او ریا د رکھو سا ہو کار کو کچھ سکھانا پڑھانا نہیں کہ تصفیہ میں کوئی دقت ہو۔“ وو