اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 145 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 145

145 ان کے مد نظر حضرت تحسین مرحوم کا یہ شعر رہتا تھا۔عمر گذشت است و نماند جز ایام چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند وہ دنیا سے عملاً قطع تعلق کر چکے تھے اور خدا میں زندگی بسر کر چکے تھے۔ان کا چلنا پھرنا سب کچھ خدا ہی کے لئے تھا۔اگر چہ وہ اپنی جوانی کے ایام میں بھی نیک اور دیندار تھے لیکن بڑھاپے میں جو کام انہوں نے کیا ، اس پر جوانی کو بھی رشک آتا ہے۔اسی بڑھاپے میں قرآن مجید حفظ کیا۔اسی بڑھاپے میں حج کا دشوار و صعب ناک سفر اختیار کیا۔اسی بڑھاپے میں تبلیغ اسلام اور مجاہد فی الاسلام ہو کر شدھی میدان میں اترے۔اسی بڑھاپے میں ( جبکہ قدر تا انسان کی دنیوی حرص و آز کا سلسلہ لمبا ہو جاتا ہے ) سب کچھ ترک کر کے عملی ہجرت کر کے قادیان آگئے۔اور آخر قادیان ہی کی پیاری بستی میں اطمینان اور سکینت کی نیند سو گئے۔میں ان کی مالی خدمات کا تفصیلی ذکر نہیں کروں گا۔یہ ناظر بیت المال کا کام ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ سلسلہ کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔سلسلہ میں بڑے بڑے کام کرنے والے آئیں گے، بڑے بڑے مجاہد اور شہداء پیدا ہوں گے لیکن چوہدری نصر اللہ خاں صاحب جیسی ہستی حالات اور واقعات کے لحاظ سے کم ہوگی۔چوہدری صاحب مر نہیں گئے بلکہ انہوں نے حیات ابدی پائی ہے۔ان کے نیک کاموں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔جو خدمت سلسلہ کی انہوں نے ابتلاء اور ایام بلا میں کی ہے وہ ہمیشہ دوسروں کو سبق دیتی رہے گی۔ضلع سیالکوٹ میں ان کی عملی تبلیغ نے جو کام کیا ہے اور جماعتوں کو جو تقویت اور زندگی بخشی ہے ، وہ انہیں زندہ جاوید رکھے گی۔لیکن ان تمام باتوں کے علاوہ وہ اپنے قائم مقام اسی روح اور قوت کا جو سلسلہ کے لئے وہ رکھتے تھے، اپنے خلف الرشید چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بیرسٹر کی صورت میں چھوڑتے ہیں۔مجھے ضرورت نہیں کہ عزیز مکرم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے متعلق اس موقعہ پر کچھ لکھوں۔چوہدری صاحب کے دوسرے صاحبزادے بھی سلسلہ کے لئے پوری غیرت اور جوش رکھتے ہیں۔میں عزیز چوہدری شکر اللہ خاں سے ذاتی طور پر واقف ہوں۔اور اس غیرت کو جانتا ہوں جو اس کو سلسلہ کے لئے ہے۔پس ایسی اولاد چھوڑنے کے بعد چوہدری صاحب کی زندگی میں کیا شبہ ہے۔کچھ شک نہیں کہ ان کی موت ہمارے لئے قومی صدمہ ہے۔مگر جس قسم کی موت چوہدری صاحب قبلہ کو نصیب ہوئی