اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 134 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 134

134 چوتھی بات آپ کی کم گوئی ہے۔آپ نہایت کم گو تھے۔بے ضرورت بات کبھی آپ نہ کرتے تھے۔میں نے بارہ برس کے عرصہ میں کبھی محسوس نہیں کیا کہ فلاں بات چوہدری صاحب زائد از ضرورت کر رہے ہیں۔پانچویں بات جو آپ میں میرے تجربہ میں آئی ہے، وہ ساتھ مل کر کام کرنے والوں کا احترام تھا۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ باوجود شدید اختلاف کے کبھی آپ نے مل کر کام کرنے والوں کے ساتھ گفتگو یا تحریر میں ایسا طریق اختیار کیا ہو جسے نا مناسب اور اخلاق کے خلاف کہا جا سکے۔آپ بحیثیت میر مجلس معتمدین یا ناظر اعلیٰ اپنے ماتحتوں یا مل کر کام کرنے والوں کو ہدایت دینے کا قواعد کی رو سے حق رکھتے تھے اور عدم تعمیل کی صورت میں مناسب جواب طلبی کر سکتے تھے۔مگر جہاں تک میں نے دیکھا ہے، کبھی آپ نے اختیارات کو علقانہ طریق سے استعمال نہیں کیا ہے۔اور آپ تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ تَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا کے بچے مصداق تھے۔میں نے بارہا دیکھا کہ دوران اجلاس میں باوجود مختلف موقعوں پر گرما گرم بحثوں کے وقوع پذیر ہونے کے آپ نے طبیعت نے کبھی حد اعتدال سے تجاوز نہیں کیا۔اس امر کے متعلق چوہدری صاحب کی ایک بات مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔اور وہ یہ ہے کہ میں مفتی محمد صادق صاحب جنرل سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ کے کشمیر تشریف لے جانے کی وجہ سے قائم مقام جنرل سیکرٹری تھا۔اور چوہدری صاحب انجمن کے میر مجلس تھے اور اس طرح میں آپ کی ہدایات کا پابند تھا۔مگر آپ علاوہ میر مجلس ہونے کے بہشتی مقبرہ کے صیغہ کے افسر بھی تھے۔اس حیثیت سے میں آپ کو اس صیغہ میں ہدایت دے سکتا تھا۔ان ہدایات میں سے بعض ہدایات سے آپ کو اختلاف ہوتا۔مگر پھر بھی آپ سیکرٹری کا احترم کرتے ہوئے ان پر عمل کرتے۔مگر کبھی کبھی عند الملاقات ہنس کر فرماتے کہ بحیثیت میر مجلس ہونے کے آپ کی ہدایت کو منسوخ کر سکتا ہوں مگر عملاً کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے کسی ہدایت کو اپنی دوسری حیثیت سے منسوخ کرنے کی کوشش کی ہو۔اور یہ امر میں آپ کی نہایت امتیازی خصوصیت سمجھتا ہوں۔چھٹا امر تعاون فی العمل ہے۔مثلاً بعض دفعہ چوہدری صاحب کے ماتحت بہشتی مقبرہ کے صیغہ کے کسی کارکن کی جلسہ سالانہ کے کسی کام کے لئے ضرورت ہوتی ، اور میں ان سے مستعار مانگتا ، اور ان کو عذر بھی ہوتا۔تو بھی وہ تعاون کر کے ہم کو اپنا آدمی دے دیتے۔اور یہ امر ایک دو دفعہ نہیں بلکہ