اصحاب احمد (جلد 11) — Page 133
133 نہیں ہوئے تھے۔اور کرم دین والے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے بطور صفائی کے گواہ کے پیش ہوئے تھے۔مگر پوری طرح تعارف ان سے ۱۹۱۴ ء میں ہوا۔جبکہ وہ اور میں ایک ہی ریز لیوشن کے ذریعہ مجلس معتمدین کے ممبر تجویز کئے گئے۔یہ پہلا تعلق تھا جو مجھے سلسلہ عالیہ کے انتظامی کاروبار میں ان سے ہوا۔پھر وہ مشیر قانونی تھے اور میں بہشتی مقبرہ کا افسر ہوا، یہ دوسرا تعلق تھا۔پھر میں کچھ عرصہ مجلس معتمدین کا سیکرٹری رہا اور مرحوم بہشتی مقبرہ کے افسر تھے۔اس طرح ایک حیثیت سے وہ میرے ماتحت تھے، تو یہ تیسرا تعلق ہے۔پھر وہ مجلس معتمدین کے پریذیڈنٹ تھے اور میں سیکرٹری ، تو اس طرح میں ان کے ماتحت تھا۔یہ چو تھ تعلق ہے۔پھر بالآخر وہ ناظر اعلیٰ ہوئے اور خاکسار ناظر ضیافت ہو کر ان سے مل کر کام کرتا رہا۔یہ پانچواں تعلق ہے۔غرض مذکورہ بالا پانچ قسم کے تعلق تھے جو ۱۹۱۴ء سے ۱۹۲۶ ء تک مجھے چوہدری صاحب سے پڑتے رہے۔ان تمام تعلقات میں ان کی طرز زندگی سے جو کچھ میں سمجھا ہوں ، وہ یہ ہے۔چوہدری صاحب بعض خوبیوں میں نہایت ممتاز تھے۔مثلاً آپ باوجود اس کے کہ قادیان میں آنریری کام کرتے تھے اور کسی کام کا کوئی معاوضہ کبھی آپ نے نہیں لیا۔مگر جس صیغہ میں آپ نے کام کیا ، نہایت پابندی وقت سے کیا۔آپ وقت کے شروع میں آتے اور ختم ہونے کے بعد جاتے۔بلکہ موسم گرما میں صبح چھ بجے دفتر میں تشریف لاتے اور بارہ بجے جبکہ دفاتر بند ہو جاتے ، آپ دفتر ہی میں رہتے اور عصر کی نماز پڑھ کر گھر تشریف لے جاتے۔روزانہ اتنا لمبا عرصہ کام کرنا، ایک نہایت غیر معمولی بات ہے۔دوسری بات جو میں نے محسوس کی ہے وہ کام میں منہمک ہونا ہے۔چوہدری صاحب موصوف جس وقت کام کرتے تھے تو کام میں ایسے مشغول اور منہمک ہوتے تھے کہ اردگرد کے شور و شر یا اپنی طرف متوجہ کرنے والی باتوں سے آپ متاثر نہ ہوتے تھے۔اتنا انہماک شاذ و نادر ہی کسی میں دیکھا گیا ہے۔تیسرا امر آپ کا وقت ضائع ہونے سے بچانا تھا۔آپ جب تک دفتر میں تشریف رکھتے ، دفتر کا کام کرتے محض خالی بیٹھتے یا بے ضرورت کوئی کام کرتے میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔اگر کسی وقت دفتر میں فرصت کا وقت ملتا۔مثلاً محرر کا غذ تیار کر رہا ہوتا تو جیب سے حمائل نکال کر تلاوت شروع کر دیتے۔اس طرح مسجد میں سنتوں کے بعد امام کے انتظار میں خالی بیٹھنے کی بجائے حمائل جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتی تھی ، نکال کر تلاوت کرتے رہتے۔