اصحاب احمد (جلد 11) — Page 77
77 ۵۴ ہو کر اٹھا۔ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر واشاعت کے لئے بڑھا۔اگر چہ مرزا غلام احمد صاحب کا دامن فرقہ بندی کے داغ سے پاک نہ ہوا۔تاہم اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے، بلکہ دنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔علاوہ ان کے تمام فرقے رہینِ بے خبری رہے۔اسلامی ہند پر بدستور بے حسی کا دور دورہ رہا۔اسلامی نام کی ہزاروں جماعتیں مسلمانوں میں موجود ہیں۔مگر ان کی مساعی وسرگرمی محض مسلمانوں کو کافر بنانے تک محدود ہیں۔اگر لاکھوں نہیں تو ہزاروں مدارس دینی بھی موجود ہیں مگر وہاں بھی اندرونی مباحث کے لئے میدان تیار کئے جاتے ہیں۔قادیانی احمدی جماعت کی مالی حالت بحمد اللہ تسلی بخش ہے۔۔۔نتائج کے اعتبار سے بھی کچھ کم قابل اطمینان نہیں۔سینکڑوں نہیں ہزاروں دینی مکاتب ہندوستان میں جاری ہیں مگر سوائے احمدی مدارس و مکاتب کے کسی اسلامی مدرسہ میں غیر اقوام میں تبلیغ و اشاعت کا جذ بہ طلبہ میں پیدا نہیں کیا جاتا۔کس قدر حیرت ہے کہ سارے پنجاب میں سوائے احمدی جماعت کے اور کسی فرقہ کا بھی تبلیغی نظام موجود نہیں ہر مسلمان کو احمدیوں کی طرح مبلغ بننا چاہیئے۔اخبار ”زمیندار“ لاہور جیسے دیرینہ مخالف احمدیت نے لکھا: ۵۵ احمدی بھائیوں نے جس خلوص ، جس ایثار، جس جوش اور جس ہمدردی سے اس کام میں حصہ لیا ہے ، وہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے۔یہ بھی ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ نمائندگان تبلیغ کے فیصلہ انقطاع نے ان کی مخلصانہ کوششوں پر کوئی برا اثر نہیں ڈالا۔وہ ہر حصے میں بدستور سرگرم حفظ و دفاع اسلام ہیں۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے بعض عقائد و دعاوی سے اختلاف دوسری چیز ہے لیکن اس امر کا اعتراف ہر ایک شخص کو کرنا پڑے گا کہ ہندو اور