اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 71 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 71

71 کے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی طرح یہاں بھی مصلحت خدا وندی پنہاں ہے۔بے شک ملکانہ کے لوگ جو ارتداد کی آغوش میں جا رہے ہیں غیر از جماعت مسلمان ہیں۔لیکن اس وجہ سے کہ دیگر مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دقبال و کافر کہتے ہیں۔بقیہ حاشیہ: چوہدری صاحب نے اسے دو حصوں میں منقسم کر دیا اور بالآخر اس کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا۔(صفحہ ۱۲ تا ۱۶) (۹) ۱۹۳۹ء۔سب کمیٹی نظارت اعلی۔سیکرٹری چوہدری فتح محمد صاحب سیال (صفحہ ۲۰) (۱۰) ۱۹۴۰ء۔سب کمیٹی امور خارجہ۔سیکرٹری سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب۔( صفحه ۱۴) نوٹ: اجلاسات شوری دو طریق پر منعقد ہوتے رہے ہیں۔اول۔جن میں سید نا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اجلاس میں تشریف فرما نہیں ہوتے۔مثلاً ہنگا می شوری ۱۹۱۴ء میں حضور نے مولانا محمد احسن صاحب کو صدر مقر رفر ما دیا تھا۔اب بھی کئی سالوں سے حضور بوجہ علالت تشریف فرما نہیں ہوتے بلکہ ۱۹۵۵ء میں تو حضور مشاورت کے ایام میں سفر یورپ کے لئے کراچی تشریف لے جاچکے تھے۔شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور (حال حج ہائی کورٹ مغربی پاکستان)۔مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ (امیر صوبائی سابق صوبہ پنجاب)۔اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ کو حضور صدر مقر فرماتے رہے۔اسی طرح تقسیم ملک سے قبل بھی بعض دفعہ حضور ایسے امور پر مشورہ کے وقت مجلس سے تشریف لے جاتے جو حضور سے متعلق ہوتے اور جس کو حضور نے باری باری بولنے کا موقعہ دینے کے لئے مقرر کیا ہوتا وہی صد را جلاس ہوتا۔دوم۔جب حضور خود تشریف فرما ہوتے تو کسی ایک صاحب کو مقررفرماتے جس کا مقصد حضور کے الفاظ میں یہ ہے:۔میں نے چونکہ شوریٰ میں پیش ہونے والے اُمور پر نکتہ چینی کرنی ہوتی ہے اس لئے میں چیئر مین کے طور پر چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو تجویز کرتا ہوں۔وہ باری باری بولنے والوں کو بولنے کا موقعہ دیتے رہیں گئے۔(۱۹۲۵ء صفحہ ۸) چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب سٹیج پر آجائیں تا کہ بطور چیئر مین گفتگو کرنے والوں کے نام نوٹ کرتے جائیں۔