اصحاب احمد (جلد 11) — Page 70
70 کر کے فرمایا کہ اس فتنہ کی تہہ میں سیاسی چال کارفرما ہے۔مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک ضرب ہے اور احمد یہ سلسلہ کے لئے غیر معمولی سامان ہے ایرانیوں اور رومیوں بقیہ حاشیہ: - آمد بڑھانے کے متعلق غور ہوتا رہے اور ممبران کے متعلق فرمایا: - ان کے لئے حاضری ضروری ہے۔وہ شمولیت کے لئے انتہائی کوشش کریں اور استعفیٰ پیش کر دینے سے نیچے نیچے ہر کوشش جو دیانتداری سے کر سکتے ہوں کریں“۔(صفحہ ۱۲۰) با وجود یکہ حضور کے نزدیک چوہدری صاحب کو چھٹی نہیں مل سکتی ، پھر بھی حضور کا آپ کو اس کمیٹی میں شامل کرنا اس کمیٹی کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔حضور نے ۱۹۳۶ء کی مشاورت میں فرمایا تھا: - در تبلیغ کے لئے کچھ نہ کچھ عرصہ وقف کرنے کی تحریک میں نام لکھانے میں غفلت نہ کی جائے۔سوائے اس کے کہ جسے چھٹی نہ مل سکے۔جیسے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ہیں۔باقی سب کو اس میں حصہ لینا چاہیئے“۔(صفحہ ۱۳۳ ۱۳۴) (۵) ۱۹۳۴ء۔سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت۔سیکرٹری حضرت مرزا شریف احمد صاحب ( بوجہ علالت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) (صفحہ ۷۰،۵۷ ) (1) اکتوبر ۱۹۳۶ء۔سب کمیٹی اس امر پر غور کرنے کے لئے کہ جماعت جس مالی تنگی میں سے گزر رہی تھی ، اس کے کیا کیا علاج ممکن تھے۔سیکرٹری شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور۔حال حج ہائی کورٹ مغربی پاکستان۔(صفحہ ۱۹) اس وقت صدر انجمن احمدیہ کی مالی حالت سخت خراب تھی۔قریباً تین لاکھ روپیہ کا اس کے ذمہ قرض تھا۔کارکنان کی پانچ ماہ کی تنخواہیں رُکی ہوئی تھیں۔(صفحہ ۲۸، ۳۸) اڑھائی ہزار روپیہ ماہوار بچت کی تجویز حضور کی طرف سے کارکنان کی تنخواہوں میں ہیں سے پچیس فیصدی تک کٹوتی کے رنگ میں کی گئی تھی۔یہ کٹوتی قرض تھی۔امانت فنڈ میں رقوم جمع کرانے کے لئے بھی پُر زور تحریک کی گئی۔(صفحہ ۶۸،۶۵،۴۷) (۷) ۱۹۳۷ء۔سب کمیٹی نظارت بیت المال۔( صفحہ ۹۸) (۸) ۱۹۳۸ء میں ایک سب کمیٹی نظارت اعلیٰ اور بیت المال کے متعلق چوالیس افراد پر مشتمل زیر صدارت چوہدری صاحب مقرر ہوئی۔سیکرٹری خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب تھے۔