اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 47 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 47

47 انگلستان میں خاکسار کے قیام کا عرصہ والدہ صاحبہ کے لئے بہت ہی پریشانی کا زمانہ تھا۔خاکسار تو اتنا ہی کر سکتا تھا کہ ہر ڈاک میں باقاعدہ خط لکھتارہتا۔چنانچہ اس میں خاکسار نے اس تمام عرصہ میں کبھی ناغہ نہیں ہونے دیا۔انگلستان جانے کے وقت خاکسار کی عمر اٹھارہ سال کی تھی۔وہاں پہنچ کر جب طبیعت میں جُدائی کا احساس پیدا ہوا۔اور والدین کی شفقت کا حقیقی اندازہ ہونے لگا تو خاکسار کے دل میں بھی اپنے والدین کے لئے ایک نئی محبت پیدا ہوگئی اور متواتر ترقی کرتی گئی۔چنانچہ ایک موقعہ پر خاکسار نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں خصوصیت سے ایک عہد کے طور پر لکھا کہ میں آپ کے لئے محبت کا ایک بحر بے پایاں اپنے ساتھ لاؤں گا اور یہ جذ بہ بڑھتا چلا جائے گا اور اس میں انشاء اللہ کبھی کمی نہیں آئے گی۔اس عہد کے اظہار کے بعد اللہ تعالیٰ نے والدہ صاحبہ کو پچیس برس اور زندگی عطا فرمائی اور خاکسار کو اپنے فضل اور رحم سے اس عہد کے پورا کرنے کی توفیق عطاء فرمائی۔فَالْحَمْدُ اللهُ عَلَىٰ ذَالِک۔اب جبکہ وہ اپنے مولا کے حضور چلی گئی ہیں۔اور ہمارے درمیان ظاہری اور عارضی جُدائی ہو گئی ہے۔میرے دل کی تو وہی کیفیت ہے۔بلکہ محبت اور حسرت نے مل کر ایک عجیب نئی کیفیت پیدا کر دی ہے۔اُن کے احساسات کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔خاکسار ا بھی تعلیم کے سلسلہ میں انگلستان ہی میں مقیم تھا کہ آخر جولائی ۱۹۱۴ء میں یورپ میں جنگ چھڑ گئی۔اور شروع اگست میں انگلستان بھی جنگ میں شامل ہو گیا۔جنگ کی وجہ سے آمد و رفت کے سلسلہ میں بعض رکاوٹیں پیدا ہوگئیں اور ہندوستان اور انگلستان کے درمیان ڈاک کے آنے جانے میں بھی ایک ہفتہ کا وقفہ بڑھ گیا۔والدہ صاحبہ پہلے تو جنگ کی خبروں سے ہی گھبرائی ہوئی تھیں۔جب ڈاک میں تو قف ہو جانے کی خبر سنی تو غش کھا کر گر گئیں۔والد صاحب پہلے ہی اُن کے احساسات کا بہت خیال رکھتے تھے اور انہیں تسلی دیتے رہتے تھے لیکن اب اور بھی زیادہ احتیاط کرنے لگے۔فرماتے کہ جنگ شروع ہو جانے سے لے کر تمہاری واپسی تک تین مہینہ کا عرصہ میرے لئے پہلے تین سالوں سے بڑھ کر مشکل ہو گیا۔تمہاری والدہ کی بیقراری کو دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا تمہیں انگلستان بھیجنے میں میں کسی جرم کا مرتکب ہوا ہوں۔آخر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تمہیں