اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 46 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 46

46 پڑے۔اور نہ والدہ صاحبہ سے اس قدر لمبا عرصہ الگ رہنا پڑے۔لیکن جب فیصلہ ہو گیا تو آخر انہیں بھی اس پر رضامند ہونا پڑا۔گو اُن کی رضا مندی بادل نخواستہ ہی تھی۔اگست ۱۹۱۱ء کے آخر میں خاکسار سیالکوٹ سے روانہ ہوا۔والد صاحب ، والدہ صاحبہ اور ماموں صاحب بھی ہمراہ تھے۔اوّل تو ہم سب قادیان حاضر ہوئے۔جہاں تک مجھے یاد ہے، یہ والدہ صاحبہ کے قادیان حاضر ہونے کا پہلا موقعہ تھا۔اور اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکانات کو دیکھ کر والدہ صاحبہ نے پہچان لیا کہ یہی مکانات اُنہوں نے اپنے ایک رویا میں دیکھے تھے۔اور اس سفر کے متعلق اتفاق بھی ایسا ہوا کہ ہم سیالکوٹ سے فجر سے کچھ پہلے روانہ ہوئے اور عصر کے وقت قادیان پہنچے۔جو والدہ صاحبہ کے سات سال قبل کے رویا کے عین مطابق تھا۔ہم ایک دن ہی قادیان ٹھہرے۔اس موقعہ پر مجھے یاد ہے کہ حضرت ام المومنین نے کمال شفقت سے ہم سب کے لئے اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کیا۔دوسرے دن ہم سب لوگ امرتسر تک اکٹھے گئے اور وہاں سے خاکسار والد صاحب کے ہمراہ بمبئی کی طرف رونہ ہوا۔بمبئی سے والد صاحب خاکسار کے جہاز پر سوار ہو جانے کے بعد واپس سیالکوٹ تشریف لے گئے۔خاکسار نے بعد میں سُنا کہ امرتسر سے روانہ ہوتے ہی والدہ صاحبہ کونش آ گیا۔اور سیالکوٹ تک کے سفر کا اکثر حصہ اُن کا اسی حالت میں گزرا۔اکثر فرماتیں کہ اُن دنوں جو میری کیفیت تھی۔اُس کا اس سے اندازہ کر لو کہ تمہارے چلے جانے کے دو چار روز بعد جب تمہارے والد کے سیالکوٹ واپس پہنچنے کا دن آیا۔تو تمہاری دادی صاحبہ نے جو اُن دنوں سیالکوٹ ہی مقیم تھیں ، کہنا شروع کر دیا: الحمد للہ آج میرا بیٹا واپس گھر پہنچ جائے گا۔“ اُن کے ایک دفعہ ایسا کہنے پر تو میں خاموش رہی۔لیکن جب اُنہوں نے تھوڑے تھوڑے وقفہ پر دو تین دفعہ ایسا کہا تو میں نے اپنی وحشت میں اُن سے کہہ دیا: پھوپھی جان آپ کیوں بار بار اپنی بے تابی کا اظہار کر رہی ہیں۔آپ کا بیٹا کہیں سمندر پار نہیں گیا۔اگر آج نہیں آئے گا تو کل آجائے گا۔“ فرماتی تھیں کہ میں جب اس واقعہ کو یا د کرتی ہوں تو ایک ندامت سی محسوس کرتی ہوں کہ میں نے کیوں ایسا کہا۔لیکن یہ فقرہ بے اختیاری میں میرے منہ سے نکل گیا۔