اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 40 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 40

40 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی طرف رہی۔آپ ایک آرام کرسی پر تشریف فرما تھے اور ایک سفید رومال آپ کے ہاتھ میں تھا۔جو اکثر وقت آپ کے چہرہ مبارک کے نچلے حصہ پر رکھا رہا۔”میرے دل میں اس وقت کسی قسم کے عقائد کی تنقید نہیں تھی۔جو اثر بھی میرے دل پر اسوقت ہوا۔وہ یہی تھا کہ یہ شخص صادق ہے اور جو کچھ کہتا ہے وہ سچ ہے۔اور ایک ایسی محبت میرے دل میں آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈال دی گئی کہ وہی میرے لئے حضور علیہ السلام کی صداقت کی اصل دلیل ہے۔میں گو اُس وقت بچہ ہی تھا لیکن اُس وقت سے لے کر اب تک مجھے کسی وقت بھی کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑی۔بعد میں متواتر ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں، جو میرے ایمان کی مضبوطی کا باعث ہوئے۔لیکن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر ہی مانا تھا۔اور وہی اثر اب تک میرے لئے حضور کے دعاوی کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ ۳ رستمبر ۱۹۰۴ء کے دن سے ہی احمدی ہوں۔اس تاریخ کے قریباً ایک ماہ بعد حضور سیالکوٹ تشریف لے گئے۔اور باوجود اس کے کہ ان دنوں مجھے آشوب چشم کی تکلیف تھی۔میں نے حضور کے سیالکوٹ کے قیام کا اکثر وقت حضور کی قیامگاہ کے قریب ہی گزارا۔میرے والد صاحب نے انہی ایام میں حضور کی بیعت کی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔میری والدہ صاحبہ نے اپنے بعض رؤیا کی بناء پر میرے والد صاحب سے چند دن قبل بیعت کی تھی۔اس کے بعد جو پہلا واقعہ خصوصیت سے مجھے سلسلہ احمدیہ کے متعلق یاد ہے ، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اشتہار ہے جو غالبا فروری ۱۹۰۵ء میں شائع ہوا تھا۔اور اس میں آپ کا البام عَفَتِ الدِّيَارُ مَحِلُهَا وَمُقَامُهَا درج تھا۔یہ اشتہار میں نے گھر میں پڑھ کر سُنایا تھا۔* دستمبر ۱۹۰۵ء میں میں اپنے والد صاحب کے ہمراہ پہلی دفعہ قادیان آیا۔اور ہم اس کوٹھڑی میں ٹھہرے جو صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کے جنوب مشرقی کو نہ میں بیت المال کے دفاتر کے بالمقابل ہے۔ان ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ظہر وعصر کی نمازوں کے بعد کچھ وقت کے لئے مسجد مبارک کی چھوٹی کوٹھڑی میں جس میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام خود نمازادا یہ الہام الانذار نام اشتہار میں درج ہے جو ۸/۴/۰۵ کو حضرت اقدس نے شائع فرمایا ہے۔