اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 31 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 31

31 ہوئے۔بٹالہ سے سیکنڈ کلاس اور تھرڈ کلاس کے دوڈ بے ریزرو کرا لئے گئے تھے۔جماعت سیالکوٹ چاہتی تھی کہ حضور کسی ایسی گاڑی میں وارد ہوں جو دن کے وقت پہنچتی ہو۔لیکن حضور نے تبدیلی پروگرام منظور نہ فرمایا۔یہ گاڑی غروب آفتاب کے بعد پہنچی۔جبکہ لوگ اپنے کاروبار میں سخت منہمک ہوتے ہیں۔یا سارے دن کی محنت سے تھکے ہوتے ہیں۔اور پھر ایک ہفتہ سے علما ءلوگوں کو اسٹیشن پر جانے سے منع کر رہے تھے۔اور جو گیا اُس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی۔اور اس بارہ میں لوگوں سے اقرار اور حلف لئے گئے تھے۔لیکن اس فتویٰ وغیرہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لوگ نہایت کثیر تعداد میں وہاں پہنچے۔اندازہ ہے کہ بارہ پندرہ ہزار افراد اسٹیشن سے فرودگاہ تک جمع تھے۔اور دو رویہ راستہ اور راستہ کی دوکانوں اور مکانوں کی چھتیں لوگوں سے اٹی ہوئی تھیں۔انتظام کے لئے ڈپٹی کمشنر۔سپر نٹنڈنٹ پولیس نے پہلے سے پورا انتظام کر رکھا تھا تا بدنظمی نہ ہو۔پلیٹ فارم پر جہاں ڈبے کھڑے ہوئے وہاں سے لوگوں کو ہٹا کر سواری کی گاڑی لاکر حضور کو سوار کرایا گیا۔اسٹیشن پر جماعت کی طرف سے روشنی کا انتظام تھا اور راستہ میں لوگوں نے چراغاں کر رکھا تھا۔حضور کھلی گاڑی میں بیٹھے فرودگاہ کی طرف تشریف لا رہے تھے اور ہجوم ساتھ ساتھ دوڑا جارہا تھا۔ایسا نظارہ پہلے کسی شخصیت کے لئے نہیں دیکھا گیا۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر کیا گیا کہ جو شخص یہاں گمنامی میں رہا۔اللہ تعالیٰ نے اُسے عزت دے کر کس رفیع مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔یہ ایک عجیب نظارہ حق و باطل کی کشمکش کا ہوتا ہے۔باطل ایڑی چوٹی تک زور لگاتا ہے۔لیکن حق ہی غالب آتا ہے۔تا یہ خیال نہ کیا جائے کہ یہ سب کچھ اتفاقی طور پر ہوا۔مخالفوں کو ادھر توجہ نہیں ہوئی ہوگی۔انہوں نے بھی مخالفت میں پوری کوشش کی۔خصوصاً ۲ اکتوبر کوان رستوں پر جہاں سے جلسہ گاہ کی طرف لوگوں نے جانا تھا۔چار مقامات پرسید جماعت علی شاہ صاحب وغیرہ نامی نو علماء کے وعظوں کا اشتہار دیا گیا۔اور جلسوں کا وقت بھی حضور کے جلسہ سے آدھ گھنٹہ قبل رکھا گیا۔لیکن ان جلسوں میں دواڑھائی صد کی تعداد میں نہایت متعصب لوگ ٹھہرے اور جب حضور جلسہ گاہ کی طرف تشریف لے جاتے ہوئے۔جب ان کی کسی مجلس وعظ کے پاس سے گذرے تو علماء کرام گالیاں دیتے تھے اور ساتھ ہی یہ کہتے تھے کہ خبردار! کوئی اس جلسہ گاہ میں نہ جائے۔لیکن لوگ تھے کہ بھاگے جارہے تھے۔اور جلسہ گاہ میں ہر ایک کی خواہش یہی تھی کہ اسے قریب تر جگہ ملے۔ہزار ہا لوگوں نے جلسہ سُنا۔کارخانہ سپورٹس ورکس کے مشہور مالک سردار گنڈا سنگھ اوبرائے نے جو جلسہ میں موجود