اصحاب احمد (جلد 11) — Page 30
30 بتایا ، احمد بتایا ہے۔( والد صاحب نے فرمایا۔میرزا صاحب کا نام میرزاغلام احمد ہے اور ان کو کہتے بھی احمد ہیں )۔ماموں صاحب نے کہا۔آپ دُعا کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر حق کھول دیگا۔یہ خواب اس قدر مسرت انگیز تھا کہ والدہ صاحبہ کی خواہش تھی کہ جب بھی آنکھیں بند کریں تو یہ خواب والے بزرگ آپ کو نظر آئیں۔آپ کے بھائی اور آپ کے خاوند کبوتراں والی مسجد میں جو احمد یہ مسجد تھی۔اس روز صبح کی نماز پڑھنے گئے تو اگر چہ اس سے قبل حضرت مسیح موعود کے سیالکوٹ تشریف لانے کی کوئی خبر نہ تھی۔لیکن درس کے بعد مسجد میں تار موصول ہوا کہ حضور اسی شب کو وارد سیالکوٹ ہو نگے۔چنانچہ گھر آکر بھائی صاحب نے کہا۔بہن ! مبارک ہو۔آپ کا خواب پورا ہو گیا حضرت صاحب آج رات یہاں تشریف لا رہے ہیں۔اس رات آپ نے پھر رویا میں دیکھا کہ بعض سڑکوں پر سے گزر کر وہ ایک مستقف گلی کے نیچے سے ہوتی ہوئی ایک مکان پر پہنچی ہیں اور اس کی پہلی منزل پر پھر انہی بزرگ کو دیکھا۔جن کو پہلی رات میں دیکھا تھا۔اور خواب میں دیکھتے ہی آپ جوش سے پکار اٹھیں۔میں اللہ کے قربان ! یہ تو وہی بزرگ ہیں جن کو گذشتہ رات میں نے اپنے مکان پر دیکھا تھا۔“ اس بزرگ نے آپ سے دریافت کیا کہ اتنی بار دیکھنے کے بعد بھی آپ کو یقین نہیں آیا ؟ تو آپ نے عرض کی :۔الحمد للہ۔میں ایمان لاتی ہوں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۲۷ /۱ اکتوبر ۱۹۰۴ء سیالکوٹ کے لئے قادیان سے روانہ ” میری والدہ کے بیان میں الحکم پر چہ مذکور سے اضافہ کر دیا ہے۔البتہ متن میں ( میری والدہ سے ) یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور کی سیالکوٹ آمد کی پہلے کوئی خبر نہ تھی۔اس کا صرف یہ مطلب ہوگا کہ حضرت چوہدری صاحب کو علم نہ تھا۔اور چوہدری عبداللہ خاں صاحب آپ کے برادر نسبتی چونکہ موضع دا تا زید کا میں رہتے تھے اس لئے ان کو بھی علم نہیں تھا۔ورنہ الحکم میں مندرج کوائف سفر میں درج ہے کہ حضور کی مخالفت میں ایک ہفتہ سے علماء کرام سیالکوٹ میں مخالفانہ تشہیر کر رہے تھے۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جبکہ حضور کی آمد کی وجہ سے نہ صرف مضافات سیالکوٹ بلکہ ملحقہ اضلاع سے بھی احباب جماعت نے لازماً پہنچنا تھا۔اتنا وسیع انتظام یکلخت وارد ہونے پر نہیں ہوسکتا تھا۔لازماً آمد کے پروگرام کی پہلے ہی اطلاع ہوگی۔