اصحاب احمد (جلد 11) — Page 373
373 رہا ہے کہ جب انہوں نے لبیک کہا تھا۔تو انکے دل کے ذرہ ذرہ سے لبیک کی صدا اُٹھ رہی تھی۔اس کے بالمقابل بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو زیادہ حصہ لے سکتے تھے۔مگر انہوں نے نہیں لیا اور بعض کو بظاہر جتنی توفیق تھی ، اس سے زیادہ حصہ لے سکتے تھے مگر انہوں نے نہیں لیا اور بعض کو بظاہر جتنی توفیق تھی۔اس سے زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔جو لوگ میرے مخاطب تھے یعنی آسودہ حال۔ان میں سے اس وقت تک صرف پانچ چھ نے ہی حصہ لیا ہے۔میں نے آسودگی کا جو معیار اپنے دل میں رکھا تھا۔وہ یہ تھا کہ جو لوگ ڈیڑھ سو یا اس سے زیادہ آمد رکھتے ہیں وہ آسودہ حال ہیں۔ہماری جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو فی الواقعہ امیر ہوں۔متوسط طبقہ زیادہ ہے۔اور انہی کو ہم امیر کہہ لیتے ہیں۔مگر ہمارے متوسط طبقہ نے جو قربانیاں کی ہیں وہ اپنی شان میں بہت اہم ہیں۔بعض نے تو ان میں سے چار چار ماہ کی آمدنیاں دے دی ہیں۔اور زیادہ تر حصہ بھی انہی لوگوں نے لیا ہے۔جو غرباء یا متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ گوانکے وسائل کمزور ہیں مگر دل وسیع ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی تھی بَدَءَ الْإِسْلَامُ غَرِيباً وَسَيَعُودُ غَرِيباً ـ اسلام غریب ہی شروع ہوا اور آخر زمانہ میں پھر غریب ہو جائے گا۔کون ہے جو بچہ سے پیار کرتا ہے مگر اس کا باپ یا اسکی ماں؟ کون ہے جو بھائی سے پیار کرتا ہے مگر اس کا بھائی ؟ کون ہے جو غریب الوطن سے ہمدردی کرتا ہے مگر اس کا ہموطن ؟ ان غریبوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی غربت میں بھی غریب اسلام کو نہیں بھولے۔کیونکہ وہ بھی غریب ہیں اور اسلام بھی غریب اور اس طرح وہ اسکے رشتہ دار ہیں۔اور اسکی غربت کی حالت کو دیکھنا پسند نہیں کرتے۔اور اپنے خون سے اس کی کھیتی کو پینچ کر وہ اس کی حالت کو بدلنا چاہتے ہیں۔رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ - دد بعض لوگ مالی لحاظ سے غریب ہوتے ہیں اور بعض دل کے غریب ہوتے ہیں اور دل کے غریب وہ ہوتے ہیں جو کبر محسوس نہ کریں۔میں نے