اصحاب احمد (جلد 11) — Page 360
360 چنانچہ حضور نے چوہدری صاحب کو اشارہ فرمایا اور وہ مضمون پڑھنے کیلئے کھڑے ہوئے حضور نے ان کو کھڑے ہوتے وقت کان میں کہا کہ گھبرانا نہیں۔میں دعا کروں گا۔“ و, چوہدری صاحب نے تعوذ اور تسمیہ پڑھنے کے بعد مضمون شروع کیا پڑھنے کا طریق اور مضمون کا اٹھان شاندار تھا۔آواز بلند اور صاف تھی لرزہ بالکل نہ تھا۔مضمون کا ایک ایک لفظ آخری آدمی تک نہایت عمدگی سے سنائی دیتا تھا۔لوگ مضمون کے ایک ایک فقرے پر چیئر ز دینا چاہتے تھے مگر چوہدری صاحب ان کو موقعہ نہ دیتے تھے۔پڑھنے میں ایسی روانی تھی کہ گویا ایک بڑا 14066 دریا بلکہ وسیع سمندر موجیں مار رہا ہے۔از حضرت عرفانی صاحب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے نہایت بلند مئوثر لہجہ میں اس مضمون کو پڑھا۔چوہدری صاحب ایک دن پہلے حلق کی خراش کی وجہ سے بیمار تھے مگر اس مضمون کو پڑھتے وقت خدا تعالیٰ نے ان کی مدد کی اور سامعین پر ایک وجد کی کیفیت طاری تھی۔از مولانا عبدالرحیم صاحب در درضی اللہ عنہ) ”ہمارا مضمون غیر متوقع کامیابی کے ساتھ پڑھا گیا۔۔۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے مضمون پڑھا اور نہایت خوبی سے پڑھا۔ان کی آواز بہت صاف اور مئوثر تھی جو تمام سامعین تک بخوبی پہنچتی تھی۔“ (الفضل ۲۴-۹-۳۰) مضمون ختم ہونے پر مذاہب کانفرنس کے صدر نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو مبارک باد دی۔ایک صاحب نے جنہوں نے تمیں سال ہندوستان میں بطور مشنری کام کیا تھا۔کہا :۔میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔زبان اچھی تھی اور پڑھنے میں بھی نہایت خوبصورتی تھی۔ہر شخص بخوبی سن سکتا تھا اور الفاظ اور معانی کا تتبع کر سکتا تھا۔“ ایک صاحب نے کہا : الفضل ۲۴ - ۱۰ - ۲۱ مضمون پڑھنے کا ذکر ریویو آف ریلیجنز (انگریزی ) بابت مارچ ۱۹۲۵ء میں بھی ہے۔