اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 357 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 357

357 سے حضور کی خدمت اقدس میں مبارک باد پیش کی جاتی ہے۔وہ مبارک پہلو یہ ہے کہ اس جانکاہ حادثہ نے حضور کی جماعت پر نہ صرف کسی قسم کا خوف اور دہشت طاری نہیں کی۔بلکہ ہر چھوٹے بڑے مرد عورت کو اسلام پر فدا ہونے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام کا بل کی سی خونخوار اور فوق آشام سرزمین میں بلند کرنے کے لئے جوش اور ولولہ سے بھر دیا ہے۔اگر چہ ہر ایک احمدی کا دل اپنے پیارے بھائی نعمت اللہ خان کی تکلیف کے تصور سے مغموم ہوا۔لیکن ہر ایک کو اسکی خوش بختی پر رشک بھی ہے اور ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ کاش! نعمت اللہ خان کی جگہ میں ہوتا۔آہ! خدا تعالیٰ مجھے اس سعادت عظمی کے حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔پیارے آقا ! ایسی جماعت جس کے مخلصین حضور کے ارشاد پر اسلام کیلئے نہ صرف اپنے مال واموال اور عزیز و رشتہ دار چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔بلکہ اپنی جان بھی پیش کرتے ہیں۔اور اگر وہ قبول ہو جائے تو اسے اپنی انتہائی خوش قسمتی سمجھتے ہیں اور اس بات کو اپنی خوبی نہیں سمجھتے بلکہ حضور ہی کے پاک اور قدسی اثرات کا نتیجہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے برکات کا اثر یقین کرتے ہیں۔کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کرنے سے محروم ہیں یا جو اپنی بدقسمتی سے حضور کے دامن سے وابستہ نہیں۔انہیں یہ سعادت حاصل نہیں ہے۔پس چونکہ حضور ہی کے طفیل مخلصین جماعت اپنے اندر اسلام کیلئے جاں نثاری اور خدا کاری کا ولولہ اور جوش پاتے ہیں اور اسے حضور کے انفاس قدسی کا اثر یقین کرتے ہیں۔اسلئے اس مبارک جوش کیلئے اصل مبارکباد کی مستحق حضور ہی کی ذات والا صفات ہے اور اس وقت جبکہ حضور دین کی ایک بہت بڑی مہم سرکر کے کامیابی اور کامرانی کے پھر میرے اڑاتے ہوئے تشریف لا رہے ہیں جماعت کے اس جوش اور ولولہ کے متعلق بھی حضور ہی کی خدمت اقدس میں مبارکباد پیش کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ان فدا کاران جماعت کے نام بھی عرض کئے جاتے ہیں۔جنہوں نے مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کے واقعہ سے متاثر ہو کر فوراً کابل روانہ ہو جانے کیلئے اپنے آپکو پیش کیا ہے اور جو صرف حضور کے ارشاد کے منتظر ہیں۔انہیں حضور جانے کی اجازت دیں یا نہ دیں۔انہوں نے اپنے نام جاں بازان اسلام میں لکھوا دیئے ہیں۔خدا تعالیٰ انہیں ان کے اخلاص اور جوش دین کے بدلے میں اپنے انعام و اکرام سے سرفراز فرمائے۔حضوران کے لئے خاص طور پر دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا عزم اور استقلال عطا کرے اور انہیں وہ نعمت عطا فرمائے جس