اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 356 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 356

356 اجازت دی اور پھر ان کو شہید کر دیا۔اس وقت سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی لندن میں تھے۔حضور نے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا کہ صبر بے شک مشکل ہے۔لیکن ہمیں وہاں کی حکومت اور اس کے فرمانروا کے خلاف دل میں بغض نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ان کی ہدایت کے لئے دعا کرنی چاہیے۔ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ بد پر رحم کریں ، اُسے بچائیں اور بدی سے نفرت کریں اور اسے مٹائیں اور ہمیں پوری توجہ اس کام کے جاری رکھنے کیلئے کرنی چاہیے جس کی خاطر مولوی صاحب نے جان دی ہے۔چاہیے کہ افغانستان کے بااثر خاندانوں کے نوجوانوں کو قادیان لاکر اور کچھ عرصہ تک ان کو قادیان میں رکھا جائے۔جو ایک ماہ بھی قادیان میں قیام کرے گا۔وہ ضرور احمدی ہو جائے گا۔وہاں کے مختلف علاقوں اور شہروں سے ایسے لوگ لانے چاہئیں۔اس کے لئے ہمیں تین چارا فرا د مقرر کرنے چاہئیں جو ہر وقت افغانستان کا چکر لگاتے رہیں۔اگر افغانستان کے باشندوں میں سے جو اس کام کے پہلے حقدار ہیں، اس بات کیلئے آدمی نہ ملیں تو پنجابیوں اور خصوصاً اہل سرحد کو اس کام کیلئے تیار ہو جانا چاہیے اور حضور نے رقم فرمایا: میں نہایت خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ بغیر اس تجویز کے علم کے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنے نام کو اس کے لئے پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ میں صرف نام دینے کے لئے ایسا نہیں کرتا بلکہ پورا غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مجھے اس کام کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیے۔“ اور اس امر کی اہمیت کا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضور اپنے متعلق رقم فرماتے ہیں : افسوس کہ میری ذمہ داریاں مجھے اجازت نہیں دیتیں۔“ اسی بارہ میں کچھ احباب نے ذیل کا عریضہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر کیا احباب کی سر فہرست آپ ہی کا نام ہے: بسم الله الرحمن الرحيم۔نحمده و نصلى على رسول الكريم۔وعلى عبده المسيح الموعود سیدی السلام عليكم ورحمة الله وبركاته دو مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کابل کی شہادت کا واقعہ حضور کیلئے جو تمام دنیوی رشتہ داروں حتی کہ ماں باپ سے بھی زیادہ اپنے خدام سے محبت و الفت رکھنے والے ہیں۔نہایت تکلیف دہ اور رنج افزا تھا۔لیکن اس رنج اور تکلیف کے حادثہ نے بھی ایک ایسا پہلو نمایاں کر دیا ہے۔جس کی وجہ