اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 351 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 351

351 ایڈیٹر صاحب نے یہ بھی لکھا کہ آپ کا اس بارہ کچھ لکھنا نہایت ضروری ہے۔آپ نے رقم فرمایا کہ تر دید اس امر کی ہوتی ہے جس سے دوست یا دشمن کسی کے دھو کہ کھانے کا خطرہ ہو۔یہاں ایسی صورت نہیں۔یہ بالبداہت افترا ہے۔اس کی تردید بھی کرنا میرے لئے باعث ندامت ہوگا۔یہ جواب شائع ہونے پر چوہدری صاحب نے لکھا کہ میں نے تو بتا دیا تھا کہ اسکی تردید کی ضرورت نہیں۔آپ نے اسے شائع کر کے میرے لئے ندامت کا سامان مہیا کر دیا۔میری یہ تحریر شائع کر دی جائے۔تا احباب پر واضح ہو جائے کہ میری سابقہ تحریر کی اشاعت میری خواہش یا منشاء کے نتیجہ میں نہ تھی۔( الفضل ۱۹۴۴-۱۲-۱۴ صفحه ۶ ۱۹۴۴۰-۱۲-۲۳ صفحه ۲) ۱۹۵۵ء میں خلافت ثانیہ کے خلاف حضرت خلیفہ اسیح اوّل کی بد قسمت اولاد کی طرف سے فتنہ اٹھا۔غیر مبایعین نے ان لوگوں کو علی الاعلان اپنا روپیہ اور سٹیج پیش کیا۔لیکن الْحَقُّ يَعْلُو وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ۔ایک حقیقت ہے جو ہر زمانہ میں اور ہمیشہ ثابت ہوتی رہی اور ہوتی رہے گئی۔ان لوگوں اور انکی نام نہاد حقیقت پسند پارٹی کی تمام مساعی فامّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء اور جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنْ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً کا مصداق ثابت ہو چکی ہے۔کاش ان کو چشم بینا حاصل ہوتی۔افسوس اس طبقہ کے افراد د سُنتے ہوئے نہیں سنتے اور دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے۔یہ فخر جین کذب بیانی کو شیر مادر کی طرح حلال جانتے ہیں۔چنانچہ روزنامہ نوائے پاکستان مورخه ۲ امئی ۱۹۵۷ء میں ذیل کی خبر شائع ہوئی:۔لاہورے رمی۔۔۔پارٹی کے آفس سیکرٹری نے نمائندہ نوائے پاکستان کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اب یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی ہے کہ مرزا محمود اور سر ظفر اللہ میں زبر دست باہمی چپقلش پیدا ہو چکی ہے۔گذشتہ دسمبر ربوہ کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر بعض سرکردہ لوگوں نے مرزا بقیہ حاشیہ: مولوی صاحب نے اپنے خطبہ میں بیان کیا کہ فیڈرل کورٹ کا جج ہو کر چوہدری صاحب دین کے معاملہ میں لا پرواہی سے کام لیتے ہیں اور انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ کس بات کیلئے انہیں نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔جلسہ سالانہ کی تقریر میں مباہلہ کا ذکر تک نہیں۔اسپر چوہدری صاحب نے مولوی صاحب کو حضور ایدہ اللہ کی تقریر کا اقتباس ارسال کیا۔( الفضل ۱۹۴۷-۵-۳) لیکن مولوی صاحب نے حسب عادت گریز سے کام لیا۔