اصحاب احمد (جلد 11) — Page 347
347 آپ ۱۹۵۸۔۳۔۱۷ کو بیروت سے بذریعہ ہوائی جہاز جدہ پہنچے اور ۱۸؍ مارچ کی صبح کو مکہ مکرمہ حاضر ہوئے اور بفضلہ تعالیٰ عمرہ کی سعادت حاصل کی۔راستہ میں مسجد حدیبیہ میں دو نفل ادا کئے اور حرم شریف میں علاوہ مسنون نوافل کے خانہ کعبہ کے اندر اول مقام نبوی پر اور پھر تینوں باقی سمتوں میں کھڑے ہو کر نفل ادا کئے۔عصر کے بعد منی۔مزدلفہ اور عرفات گئے۔عرفات میں بھی دعائیں کیں بعد مغرب پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور نفل ادا کئے۔19 کی صبح کو پھر طواف کیا اور نفل ادا کئے پھر جدہ لوٹے۔۲۲ کو بعد مغرب پھر طواف کے لئے مکہ مکرمہ گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعاؤں کا موقعہ اور توفیق بفراغت ملتی رہی۔اسلام اور احمدیت کے لئے دعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔حضور کے خاندان اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ کے لئے خاص طور پر دعا کی توفیق ملی۔آپ نے تحریر فرمایا: کہ عمرہ اور حج کے لئے اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سہولت میسر ہے۔جدہ میں بحری جہازوں کے لئے اب باقاعدہ بندرگاہ ہے۔مسافر بندرگاہ میں اترتے ہیں اور بندرگاہ سے ہی سوار ہوتے ہیں۔بازار اور سڑکیں صاف اور فراخ ہیں۔پانی بافراط ہے۔جدہ سے مکہ کی سڑک عمدہ ہے۔اور ۲۵ میل کا سفر سوا گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔سڑک پر دن رات آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔کسی قسم کا خوف اور دقت نہیں۔جدہ سے مدینہ کا سفر پانچ گھنٹہ میں طے ہو جاتا ہے۔مکہ سے منی۔مزدلفہ اور عرفات تک تین چار چوڑی سڑکیں بن چکی ہیں۔پانی کا عمدہ انتظام ہے۔حرم شریف کی توسیع کے لئے ارد گرد کے مکانات خرید کر گرائے جاچکے ہیں اور توسیع کا پروگرام زیر تکمیل ہے۔صفا اور مروہ کے درمیان سے دکانیں اُٹھا دی گئی ہیں اور گاڑیوں اور موٹروں کی آمد ورفت بند کر دی گئی ہے۔اور نیچے فرش کرنے کا پروگرام ہے۔حرم شریف کے اندرا کثر حصہ میں سنگ مر مر کا فرش ہو چکا ہے۔صرف تھوڑا سا حصہ باقی ہے۔توسیع کے سلسلہ میں زمزم کو پیچھے ہٹانے کا فیصلہ ہے۔آپ نے نوافل کے متعلق یہ معمول رکھا کہ حرم شریف میں داخل ہونے پر رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان دو نفل۔پھر طواف کے بعد مقام ابراہیم پر دونفل۔پھر حیم اور رکن یمانی کے درمیان دو نفل۔سب سے زیادہ رقت کے ساتھ دعا کرنے کا موقعہ ملتزم کے مقام پر یعنی بیت اللہ کے دروازہ کے نیچے میسر آتا ہے۔فَالْحَمْدُ للهِ عَلَى ذَلِک 170