اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 346 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 346

346 ہو چکا ہے۔حضور فرماتے ہیں اسوقت تک لیبیا میں انگریزی فوج نے کوئی پیشقدمی نہیں کی تھی اور اٹلی کی فوجیں مصر میں تھوڑا سا آگے بڑھ آئی تھیں اور دونوں میں لڑائی ہو رہی تھی۔محترم چوہدری صاحب نے یہ رویا وائسرائے ہند اور انکے پرائیویٹ سیکرٹری سر لیتھویٹ کو سنا دی۔سر موصوف کی خواہش پر وہ چوہدری صاحب کے ہاں آئے۔حضور نے اپنی زبان مبارک سے ان کو یہ رویا سنائی۔۱۹۴۰ء میں اطالوی فوجوں نے بڑھ کر انگریز فوجوں کو پیچھے ہٹا دیا۔لیکن اس سال کے آخر میں انگریزی فوجیں آگے بڑھیں اور اطالوی فوجیں شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئیں۔۱۹۴۱ء میں اطالیہ انگریزی فوجوں کو دھکیل کر مصر کی سرحد پر لے آیا۔اس سال کے آخر میں انگریز پھر بڑھے اور اور دشمن کو کئی سو میل تک دھکیل کر لے گئے۔جون ۱۹۴۲ میں پھر اطالیہ نے انگریز افواج کو مصر کی سرحد تک دھکیل دیا۔اس شدید حملہ سے العالمین کے مقام پر انگریزوں کی حالت ایسی نازک ہوگئی کہ ان کا بچنا مشکل نظر آتا تھا مسٹر چرچل وزیر اعظم خود اس محاذ پر پہنچے۔انگریز سمجھ رہے تھے کہ ہم اس محاذ پر شکست کھا جائیں گے۔العالمین کی جنگ سے چند دن پہلے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ میں اپنی اس رؤیا کا اعلان کیا۔چنانچہ چند دن کے اندر العالمین کے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اطالوی افواج کو اچانک شکست دیدی۔اس وقت انگریزی افواج کی شکست کا شدید خطرہ تھا۔اور ایک دن اطالویوں نے ان کی صفیں توڑ ڈالیں اور وہ اپنے ٹینک اور فوجیں لے آئے۔لیکن ایک تازہ دم دستے کے آنے پر تھوڑے سے مقابلہ سے یکدم اطالویوں کے ٹینک پیچھے ہٹ گئے اور باقیوں نے مقابلہ بند کر دیا۔دراصل اطالویوں نے پانی کی خاطر ایک پمپ پر قبضہ کر لیا لیکن تجربہ کیلئے اس میں سمندرکا پانی چھوڑا گیا تھا۔اطالویوں نے یہ نمکین پانی پینا شروع کیا۔جس سے پیاس بجھنے کی بجائے ان کی زبانیں باہر نکل آئیں اور ایک منٹ مزید مقابلہ کی سکت نہ رہی۔اس طرح ایک خدائی فعل سے دشمن کی فتح شکست سے بدل گئی۔۱۵۹ عمرہ سے مشرف ہونا: االفضل ۱۹۵۸-۲- ۱۸ ( صفحه ۱۴) حضور نے ذکر فرمایا کہ اس رویا پر یہ اعتراض کیا گیا ہے۔(۲۵-۶-۱۹۴۴ صفحه اک۱)