اصحاب احمد (جلد 11) — Page 23
23 کرتی تھی۔اور وہ خواہش رکھتے تھے کہ چوہدری محمد امین صاحب اور وہ اکٹھے فیصلہ کریں۔جب والد صاحب نے چوہدری محمد امین صاحب کے ساتھ مشورہ کیا تو چوہدری صاحب نے فرمایا کہ میرے دل میں شکوک ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ انہیں صاف کیا جائے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے ساتھ طے ہوا کہ یہ دونوں مغرب کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں اور چوہدری محمد امین صاحب اپنے شکوک اور اعتراضات صاف کر لیں۔خاکسار بھی مغرب کے بعد اس مختصر مجلس میں والد صاحب کے ہمراہ حاضر ہوا کرتا تھا۔تین چار دن کے بعد چوہدری محمد امین صاحب نے والد صاحب کے پاس تسلیم کیا کہ انکے اعتراضات کا جواب تو مل گیا ہے۔چنانچہ والد صاحب نے فرمایا کہ پھر کل بیعت کر لیں گے۔لیکن دوسری صبح جب والد صاحب چوہدری امین صاحب کے مکان پر پہنچے اور کہا کہ حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کے لئے چلیں تو چوہدری صاحب نے فرمایا کہ انہیں انشراح صدر نہیں۔چنانچہ والد صاحب اُن کے بغیر ہی حضرت اقدس کی خدمت میں تشریف لے گئے اور بیعت کر لی۔اس موقعہ پر بھی خاکساران کے ہمراہ تھا۔یہ دن غالباً اکتوبر کے پہلے دو تین دنوں میں سے تھا اور وقت فجر کی نماز کے بعد کا تھا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قیام سیالکوٹ کے دوران میں کثرت سے لوگوں نے بیعت کی۔لیکن مولوی فضل الدین صاحب مرحوم اور والد صاحب کے سلسلہ میں شامل ہونے کا سیالکوٹ میں بہت چرچا ہوا۔“ اس کے قریباً ایک سال بعد یعنی ستمبر ۱۹۰۵ء میں والد صاحب پہلی دفعہ دارالامان حاضر ہوئے اور خاکسار کو بھی ساتھ لیتے گئے۔بعد میں اُن کا یہ معمول رہا کہ جب تک وہ سیالکوٹ پریکٹس کرتے رہے۔ستمبر کی تعطیلات کا کچھ حصہ دارالامان میں گزارا کرتے تھے اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے بھی حاضر ہوا کرتے تھے۔خاکسار بھی ان اوقات میں عموماً ان کے ہمراہ قادیان حاضر ہوا کرتا تھا۔1066 حضرت عرفانی صاحب فرماتے ہیں: چوہدری صاحب کو سلسلہ عالیہ احمدیہ سے گونہ دلچسپی اور تعلق تو ۱۸۹۳ء سے تھا۔آپ سلسلہ کی کتابیں پڑھتے اور حسن ظن رکھتے تھے۔جماعت سیالکوٹ کے ممتاز اور مخلص احباب حضرت