اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 329 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 329

329 ۱۳۵ اعزازی طور پر اس علاقہ میں تبلیغی کام سرانجام دیا اور حضرت سیال صاحب کے ساتھ بھی اور الگ بھی تبلیغی دورے کئے۔مقامی تبلیغ پانچ چھ سال قبل سے شروع تھی ۴۳۔۱۹۴۲ء میں اس کے دائرہ عمل کو تحصیل ہائے بٹالہ وگورداسپور کے علاوہ ملحقہ اضلاع امرتسر، سیالکوٹ، جالندھر اور ہوشیار پور تک وسیع کر دیا گیا تھا۔گو ان اضلاع میں کام ابھی بہت محدود حد تک تھا لیکن بہر حال تبلیغی بقیہ حاشیہ:۔تم تو اپنے بھائی بندوں کے متعلق یہ بھی نہیں کہہ سکتے۔وہی لوگ جن کی زبانیں کل تک مائی لارڈ ، یور لارڈ شپ کہتے سوکھتی تھیں۔آج ان کی ہی نہیں عوام کی نگاہ میں تمہاری کیا عزت و آبرو باقی ہے؟ مزید کچھ بھی نہ ہو۔جو ہو چکا وہی سلب احترام کے لئے کافی و وافی ہے۔تم نے جس وقت اپنا ز ور قلم حضرت مرزا صاحب کے خلاف صرف کیا اسکے بعد بلا مبالغہ ہزار ہا غیر مسلم دامن احمدیت سے وابستہ ہوئے اور انہوں نے لاکھوں روپے احمدیت پر نچھاور کئے۔اپنے بیسیوں جگر گوشے احمدیت کی اشاعت کے لئے وقف کئے۔دن رات وہ آپ پر سلام و درود بھیجتے ہیں۔جرمنی وغیرہ میں کئی مساجد تعمیر ہوئیں۔غیر ممالک میں دسوں نئے مشن کھلے۔اور مجاہدین و مبشرین اسلام کی تعداد کئی گنا ہوگئی۔جماعت احمدیہ کی طرف سے تمہارے فیصلہ سے قبل ایک بھی ترجمہ قرآن مجید غیر ملکی زبان میں شائع نہیں ہوا تھا۔اسکے بعد جماعت نے انگریزی ، جرمنی ، ڈچ ، انڈو نیشین اور سواحلی زبانوں میں تراجم شائع کرنے کی توفیق پائی۔روسی وغیرہ کئی زبانوں میں تیار ہو چکے ہیں جو عنقریب زیور طبع سے مزین ہونگے۔تائید احمدیت میں متعد زبانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں تالیف ہوئیں۔مشرقی افریقہ ، مغربی افریقہ، پاکستان، امریکہ ، سوئٹزرلینڈ ، انڈونیشیا، ماریشس وغیرہ ممالک سے بیسیوں رسالے و اخبارات جماعت کی طرف سے جاری ہوئے۔اغیار نے اعتراف کیا کہ مغربی افریقہ میں اگر ایک شخص عیسائیت قبول کرتا ہے تو دس اسلام قبول کرتے ہیں۔احمدیت کے مبلغین کی کامیابی کا کیسا شاندار اعتراف ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ ذلت کا حالیہ سامان نہ بھی ہوتا یا زیر تجویز مقدمہ نہ بھی ہوتا تو بھی دوسرے رنگ میں ایسا سامان ہو چکا تھا۔کیا اسکے دل میں اور عطاء اللہ مذکور کے دل میں یہ حسرت کی آگ نہیں جلائی گئی تھی کہ جس جماعت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اس کا ذرہ بھر بھی نقصان نہیں ہوا۔اس سلسلہ اور اسکے بانی کی نیک شہرت دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی جا رہی ہے۔یہ حسرت ہی عذاب کا رنگ رکھتا ہے۔چاند پر تھوکنے سے چاند کو کیا نقصان؟