اصحاب احمد (جلد 11) — Page 328
328 ۴۲ - ۱۹۴۱ میں اس علاقہ میں تمہیں مبلغ مصروف عمل تھے۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اس عرصہ میں بقیہ حاشیہ : - ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک پرستاؤ ( ریزولیوشن ) پاس کیا ہے جسمیں کہا گیا ہے کہ اسے مضمون پڑھ کر صدمہ ہوا۔جس میں وکلاء اور ایڈووکیٹ جنرل شری مترسیکری اور ان کی دھرم پتنی پر مبینہ طور پر کیچڑ اُچھالا گیا تھا۔ایسوسی ایشن نے شری کھوسلہ کیخلاف ضروری کارروائی کے لئے چھ ممبروں پر مشتمل کمیٹی مقرر کر دی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ شری کھوسلہ پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ مضمون میں دئے گئے نام زندہ یا مردہ اشخاص کے نہیں بلکہ یہ فرضی ہیں۔“ ( ۶۲۔۵۔۱۳) مئی ۱۹۶۲ء میں ہفت روزہ انگریزی بلٹز (Blitz) نے بھی اس بارہ میں ایک مضمون لکھا ہے اور زیر تجویز مقدمہ کا ذکر کیا ہے۔اخبار پرتاپ مورخہ ۱۹۶۲-۸-۱۲ میں اا راگست کے متن ذیل کی خبر شائع ہوئی ہے کہ : شری سرو متر سیکری ایڈووکیٹ جنرل نے جوڈیشل مجسٹریٹ سردار گورنام سنگھ کی عدالت میں پنجاب ہائی کورٹ کے ریٹائر ڈ چیف جسٹس شری جی۔ڈی۔کھوسلہ کے خلاف زیر دفعہ ۵۰۰ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے دعوئی میں لکھا ہے کہ شری جی۔ڈی۔کھوسلہ نے بعنوان سانپ (بالغوں کیلئے ) ایک کہانی ۱/۲۹ اپریل کی ٹربیون میں شائع کی ہے جو شری سیکری اور ان کی بیوی کے متعلق ہے اور اس کی اشاعت سے ان دونوں کی ہتک ہوئی ہے۔عدالت نے شری جی۔ڈی کھوسلہ کے نام ۱۵ ستمبر کو حاضر ہونے کیلئے سمن جاری کر دئے ہیں کیونکہ دعویٰ قابل سماعت ہے۔کہا جاتا ہے کہ آزاد ہندوستان میں یہ پہلی مثال ہے جبکہ ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اور وہ ملزموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔‘‘ (صفحہ۳ ) خاکسار مولف عرض کرتا ہے کہ کھوسلہ مذکور مرکز قادیان کی اہمیت اور جماعت کی ترقی میں کوئی روک نہ ڈال سکا۔اللہ تعالیٰ نے اسے دکھایا کہ تمہارے فیصلے کے بعد جماعت احمدیہ نے دن دونی رات چوگنی ترقی کی۔عالم عیسائیت اس کے سامنے کانپنے لگا۔باوجود تقسیم ملک کے قادیان کا مرکز قائم ہے اور اس سے اعلائے کلمتہ اللہ کا فیض جاری وساری ہے۔البتہ تمہاری عزت۔۔۔۔اوہ تمہارے ہی بھائی بندوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔احمدی کہہ سکتے تھے اور بجا طور پر کہہ سکتے ہیں۔کہ ایک دشمن دوسرے دشمن کا ساتھی بن جاتا ہے اور وہ صرف الْكُفْرَ مِلَّةً وَاحِدَہ کا مظاہرہ تھا۔لیکن