اصحاب احمد (جلد 11) — Page 284
284 ہیں اور یہ دکھایا گیا ہے کہ معاذ اللہ حضور بوجہ شہوت رانی کے جہنم کے گہرے گڑھے میں عذاب میں مبتلاء ہیں۔اس میں ایسی گندی گالیاں دی ہیں شاید چوہڑا بھی ان سے دریغ کرے گا۔ان لوگوں کی غرض صرف یہ ہے کہ ہماری ذلت اور بے بسی کو نہایت بھیانک صورت میں ہمارے سامنے لایا جائے اور ہم پر یہ ظاہر کیا جائے کہ انہیں مسلمانوں کے احساسات کی ذرہ بھر پرواہ نہیں۔کیا مسلمانوں کے ستانے کے لئے اور کوئی طریق نہیں ؟ ہماری جانیں حاضر ہیں۔ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں۔لیکن خدا را آنحضرت صلعم کو گالیاں دے کر آپ کی ہتک کر کے اپنی دنیا وآخرۃ کو تباہ نہ کریں۔ہماری طرف سے بار بار کہا گیا ہے کہ ہم جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح کر سکتے ہیں۔لیکن حضور صلعم کو گالیاں دینے والوں سے ہر گز صلح نہیں کر سکتے۔حکومت کے قوانین کے او پر بھی قوانین موجود ہے۔مزید فر مایا کہ چین میں آخری ایام میں یہ طریق اختیار کیا گیا کہ مساجد میں آنحضرت صلعم کو خش گالیاں دی جاتیں اور جو شیلے مسلمان ایسے لوگوں کو قتل کر دیتے۔اس پر ملک بھر میں شور مچایا جا تا کہ مسیحیوں کو ظالمانہ طریق پر قتل کیا جاتا ہے۔اس طرح مسیحیوں میں آگ لگ گئی۔اور انہوں نے مسلمانوں کو جو پہلے ہی کمزور ہورہے تھے۔ملک سے نکال دیا۔ایسا ہی طریق ہند و مصنفین نے شروع کر رکھا ہے۔تا مسلمان خونریزی پر اتر آئیں اور ہندوؤں کو نکھٹن میں مدد ملے۔مسلمانوں کو دھو کہ میں نہیں آنا چاہیئے۔سوامی شرد ہانند کے قتل سے مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوا؟ ہندوؤں پر اسلام کے متعلق غیرت کا اظہار ہونا چاہیئے اور وہ صرف تین طرح ہو سکتا ہے۔اول ، اپنی عملی اصلاح سے آنحضرت صلعم کی شاندار اور مز کی زندگی ظاہر کی جائے۔دوم - تبلیغ کر کے حضور پر درود بھیجنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے۔سوم، مسلمانوں کی تمدنی اور اقتصادی حالت کو درست کیا جائے۔اس وقت مسلمان ہندوؤں کے مقروض ہیں اور قریباً ایک ارب روپیہ سالانہ ہندوؤں کو سود میں ادا کرتے ہیں۔پنجاب میں جہاں تعداد میں مسلمان دگنے ہیں ، مالی لحاظ سے دسواں حصہ ہیں۔اور روز بروز ہندوؤں کی مالی حالت بہتر ہوتی جاتی ہے۔اور ہندو مصنفین کو اپنی قوم کی دولت پر گھمنڈ ہے۔صحابہ کی طرح مسلمانوں کو مستقل قربانی کرنی چاہیئے۔جس طرح ہندو مسلمانوں سے چھوت کرتے ہیں۔مسلمان بقیہ حاشیہ: آپ مختلف پہلؤوں پر غور کر کے مشورہ دیں کیا ہماری طرف سے نالش پنجاب یا کسی اور صوبہ میں نہیں ہوسکتی۔“ ( مکتوبات اصحاب احمد جلد اول۔مکتوب نمبر ۶۸/۲۹)