اصحاب احمد (جلد 11) — Page 240
240 بانٹتا پھرتا ہے۔اور ہر تشنہ لب کو مئے عرفان کے جام پیش کرتا ہے۔ہر گم کردہ راہ کو مشعلِ اسلام کی روشنی میں صراط مستقیم دکھاتا ہے۔ہمت و حوصلے کا یہ پیکر بڑھاپے کے باوجود جواں مردوں سے بڑھ کر خدمتِ دین کا شوق رکھتا ہے۔متانت و سنجیدگی کا یہ مجسمہ نہایت لطیف پیرائے میں اقوام عالم کے مندوبوں کو اَشْهَدُ ان لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللهِ کی تفسیر بتاتا ہے۔“ ( مورخہ اگست ۱۹۶۱ء) محترم چوہدری صاحب کو جس قدر وسیع علاقوں میں اور دور دور کے ممالک میں بنفس نفیس پہنچکر اعلائے کلمتہ اللہ کا موقعہ حاصل ہوا ہے۔یہ موقعہ جماعت میں سے کسی کو میسر نہیں آیا اور آپ کی ذاتی وجاہت اور تقویٰ بھی اس کی زیادتی کا باعث ہوا۔چنانچہ حضور نے ایک خطبہ میں فرمایا: کسی زمانہ میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب لاہور کی جماعت کے امیر تھے۔اور میں جب کبھی یہاں آتا تھا تو انہی کے گھر ٹھہرتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ ان دنوں جب بھی میں یہاں آتا تھا۔ملنے والوں کا برابر تانتا بندھا رہتا تھا۔لوگ میری باتیں سننے کے لئے آجاتے تھے ، اور یہ بہر حال چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی سنجیدگی کا اثر تھا کہ لوگ ان کی باتیں سنتے تھے۔اور جب کبھی میں یہاں آتا تھا، تو ان کے دوستوں کو خیال آتا تھا کہ وہ مجھ سے مل لیں۔( الفضل ۲۸/۱/۵۶) خطبه مورخه ۶ ۶/۱/۵) جلسہ مصلح موعود کے موقعہ پر ۲۳ / مارچ ۱۹۴۴ء کو پیشگوئی کے اس حصہ کے متعلق کہ: خدا تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا“ اور مصلح موعود ” زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔چوہدری صاحب نے بتایا کہ مجھے عراق ، مصر، مغربی افریقہ ( گولڈ کوسٹ اور نائیجیریا) اور جنوبی امریکہ میں برازیل اور گی آنا اور شمالی امریکہ، انگلستان، پولینڈ ، ہنگری اور اٹلی میں جانے اور مبلغوں کی تبلیغ کے نیک ثمرات دیکھنے کا موقعہ ملا۔شامی احمدیوں سے بھی ملاقات ہوئی۔چین کے مغربی علاقہ میں احمدیت پھیلانے کا مجھے ہی موقعہ ملا۔بلکہ وہاں میری تقریر سے میرے عملہ کے ایک فرد جو احمدیوں کے سخت مخالف تھے ، احمدی ہو گئے۔دیگر متعدد مقامات پر بھی مجھے تبلیغ کرنے کا موقعہ ملا۔اور مجھے چاروں براعظموں میں حضرت مسیح موعود کے نام اور تعلیم کو پھیلتے دیکھنے کا موقعہ ملا۔* حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ۱۹۵۵ء کے قیام لندن کے دوران میں دنیا بھر کے