اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 12 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 12

12 صاحبہ نے کہا کہ جو آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے کانوں میں ایسی سختی اور زور سے سنائی دی ہے، وہ آپ نے نہیں سنی ؟ دونوں طرف سے اپنی اپنی بات پر اصرار ہوتا رہا۔بالآخر بچے کے والد نے اپنی رفیقہ حیات کی بات قبول کر لی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپکا ایمان پھر محفوظ رکھا۔اور آپ نے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر کیا کہ اس نے سب کو اس شرک عظیم سے بچالیا اور گناہ کے ارتکاب اور اسکے گمراہ کن نتائج سے نجات بخشی۔ننھے ظفر اللہ خان کی عمر نصف سال کی تھی جب ان کی والدہ صاحبہ کے تایا صاحب جنہوں نے ایک دفعہ خواب میں دو اٹھتیاں اور ایک روپیہ دیا تھا ، فوت ہو گئے۔بچے کے والد اور دادا نے آپ کو تعزیت لئے دا تا زید کا جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔آپ اصرار کرتی تھیں کہ میں ضرور جاؤں گی۔تین دن کے بعد یہ کشمکش ختم ہوئی اور بالآخر آپ بچے سمیت وہاں گئیں۔مذکورہ جے دیوی گھر آئی لیکن دور ہٹ کر بیٹھ گئی آپ نے اسے اپنے قریب بلا یا اور تھے ظفر اللہ خاں سے ماتھے پر ہاتھ رکھوا کر سلام کروایا۔جے دیوی نے پیار کیا اور سر پر ہاتھ پھیر کر دو پٹہ وغیرہ پار چات طلب کئے۔آپ نے کہا کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ مبادا میرا اللہ اس فعل کو میری طرف سے رشوت قرار دے۔اس پر بچے کے نانا ناراض ہوئے کہ انکار کیوں کیا۔یہ کیوں نہ کہا کہ مطلوبہ پار چات دے دوں گی۔ہم سیالکوٹ سے کپڑا منگوا کر جے دیوی کو ظفر اللہ خاں کے والد صاحب کی طرف سے پیش کر دیں گے۔لیکن وہ کہنے لگیں کہ میں اپنے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا مقدم مجھتی ہوں۔اگر خدا تعالیٰ نے دریافت کیا کہ تو نے رشوت دی تھی تو میں کہوں گی ، مجھ سے باز پرس نہ فرمائی جائے۔میرے والد سے پوچھا جائے۔یہ بیان کر کے آپ فرماتی ہیں کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی ہوں جس نے ہمیشہ مجھے گمراہی اور تباہی سے اپنے فضل اور رحم کے ساتھ بچالیا۔اور ہر لغزش کے وقت میری دستگیری کر کے مجھے ہمیشہ سیدھا راستہ دکھایا۔اور سیدھے راستے پر قائم رکھا اور ظالموں میں شمار ہونے سے نجات بخشی۔جے دیوی نے کافی لمبی عمر پائی۔لیکن بیچاری کی زندگی مصیبت میں ہی گزری۔لوگوں نے چڑیل مشہور کر رکھا تھا۔اس لئے اکثر لوگ اُسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اور جب وہ ضعیف ی ” میری والدہ کے بیان میں الحکم ۳۵-۱- ۲۸ کے والدہ محترمہ کے بیان سے مفید اضافہ کیا گیا ہے۔