اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 227 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 227

227 دلکش اور مؤثر حالات لکھ کر صرف بیٹا ہونے کے حق کو ہی بصورتِ احسن ادا نہیں کیا بلکہ جماعت کی بھی ایک عمدہ خدمت سرانجام دی ہے۔۔۔۔۔۔دوست اس کتاب کو نہ صرف خود پڑھیں گے ، بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس کے پڑھنے کی تحریک کریں گے تاکہ ان ہر دو فریق کو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ سچا بقیہ حاشیہ: - بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے زبان کو مقبول بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم روز مرہ کی بول چال میں زیادہ سے زیادہ عام فہم عربی الفاظ استعمال کرنے کی عادت ڈالیں۔( الفضل ۲۱/۱۲/۵۷) (۳۸) تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۵۷ء۔ایمان باللہ کا اثر انسان کے اخلاق اور اعمال پر (الفضل ۱۷٫۱٫۵۸ و ۴/۲/۵۸) (۳۹) ہیگ عالمی عدالت انصاف کے حج محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے گذشتہ منگل کو لاہور روٹری کلب میں تقریر کرتے ہوئے بے غرضانہ خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔آپ نے فرمایا ، اگر روٹری کلب کے ممبران اس مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کر لیں تو زندگی زیادہ محفوظ ، دلکش ، پر مسرت اور خوشگوار بن سکتی ہے۔روٹری کلب کے اس اجلاس میں دیگر حضرات کے علاوہ اسلامی مجلس مذاکرہ کے مندوبین نے بھی شرکت کی۔دوران تقریر میں محترم چوہدری صاحب موصوف نے روٹری کے دستور العمل ” بے غرضانہ خدمت پر اسلامی نقطۂ نگاہ سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا۔قرآن مجید میں اس امر کا ذکر آتا ہے کہ بعض قسم کے اجتماعات ، مجالس اور انجمنیں ایسی ہوتی ہیں جو بنی نوع انسان کی فلاح پر مبنی ہوتے ہوئے لوگوں کی ایسے طور پر راہ نمائی کر سکتی ہیں کہ جس سے ان میں فراخد لی اور سخاوت کا مادہ پیدا وو ہو۔اور وہ بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود اور امن وسکون کے لئے کوشاں رہیں۔آپ نے فرمایا۔ہمیں ایسی تنظیموں کے ساتھ پورا پورا تعاون کرنا چاہیئے۔جو ہماری فلاح و بہبود کے لئے برسر کا ر ہوں اور لوگوں کی ترقی و خوشحالی جن کا سمح نظر ہو۔ہمیں قرآن مجید میں اس امر کی بھی تلقین کی گئی ہے ، کہ ہمیں ایسی تنظیموں کا ہاتھ بٹانے اور اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے ہر دم تیار رہنا چاہیئے۔” آپ نے مزید فرمایا حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید نے اس امر کو مسلمان کا ایک خاص وصف قرار دیا ہے کہ وہ اپنی ذات پر بنی نوع انسان کی خدمت کو ترجیح دے۔اسی ضمن میں آپ نے اس امر پر زور دیا کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین پر پہلے انسان تھے۔جنہوں نے بے غرضانہ خدمت کا انتہائی ارفع و اعلیٰ تصور پیش کیا۔آپ نے تلقین کی کہ لوگوں کو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم