اصحاب احمد (جلد 11) — Page 212
212 فرمایا۔اس نذرانہ کا تیسواں حصہ یعنی دس ہزار روپیہ خود چوہدری صاحب کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔* ۱۲۳ بقیہ حاشیہ: - سر فریڈرک کی تقریر کے بعد چوہدری صاحب نے ان کا شکر یہ ادا کیا اور قادیان دوبارہ آنے کی تحریک کی اور یہ اظہار کیا کہ ان کی عالمانہ تقریر سے میں نے بہت کچھ اخذ کیا ہے۔۴/۴/۴۱ محترم چوہدری صاحب کی ملاقات کے لئے مہاراجہ صاحب پٹیالہ کار پر تشریف لائے۔احمد یہ کور کی معیت میں محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور خارجہ نے خیر مقدم کیا۔مہا راجہ صاحب نے بیت الظفر میں قیام کیا۔بعد نماز عصر سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کوٹھی دار الحمد میں ان کے اعزاز میں دعوت چائے دی ، جس میں چوہدری صاحب اور بعض اور معززین جماعت بھی مدعو تھے۔شام کو چوہدری صاحب نے مہاراجہ صاحب کے اعزاز میں دعوتِ طعام دی جس میں حضور نے بھی شرکت فرمائی۔اگلے روز چوہدری صاحب کی معیت میں آپ نے سلسلہ کے ادارے دیکھے۔مہا راجہ صاحب نے قصرِ خلافت بھی دیکھا تھا۔اور خاکسار نے بوجہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرائیویٹ سیکرٹری ہونے کے آپ کو خوش آمدید کہا تھا۔اس وقت صرف چوہدری صاحب محترم آپ ۱۲۴ ۱۲۵ کے ساتھ تھے۔چوہدری صاحب کی دعوت پر سر پیٹرک سپنس مع لیڈی سپنس قادیان آئے۔اور بیت الظفر میں فروکش ہوئے۔کارخانے ،ادارے، دفتر ترجمۃ القرآن ، بورڈ نگ تحریک جدید اور نور شفاخانہ دیکھے۔چینی ترکستان کے طلباء وغیرہ سے ملاقات ہوئی۔ہائی سکول میں تقریر کی۔نوٹ :۔بیت الظفر قادیان کو محکمہ بجلی نے باون ہزار روپیہ کی معمولی قیمت پر محکمہ کسٹوڈین سے خرید لیا ہے۔اور دفتر بجلی کیکم اگست ۱۹۶۲ ء اس میں منتقل ہو گیا ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کثرت سے مساجد کی تعمیر کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جرمنی میں ایک درجن کے قریب مساجد تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔جرمن لوگوں کی بعض خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے ، ان کی شدید صفائی پسندی کے بیان میں بتایا کہ ایک نواحمدی جرمن کولندن جیسا شہر بھی بہت گند انظر آیا۔اور پھر فرمایا: پروفیسر ٹلٹاک صاحب نے جب ربوہ آنے کا ارادہ ظاہر کیا تو چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے مجھے منع کیا کہ اسے ابھی نہ بلاؤ۔میں اپنا مکان بنالوں اور اس میں فلش والا پاخانہ بنالوں،