اصحاب احمد (جلد 11) — Page 211
211 نے اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے اپنی محبت اور اخلاص کا مظاہرہ کیا۔اور جلسہ سالانہ کے موقعہ پر یہ ہد یہ نا چیز نے پیش کیا۔جو حضور نے از راہ کرم قبول فرمایا۔اور جماعت کی ترقی و بہبود کے لئے صرف بقیہ حاشیہ: چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کی بیرسٹری کی سند پر بھی سکونت کے طور پر قادیان ہی کا نام درج ہے۔گویا ہمارا سارا خاندان ہی اپنے آپ کو قادیان کا باشندہ سمجھتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل ڈاکخانہ جات سر جی۔بیوور اور سر فریڈرک جیمز ایم۔اے۔ایل۔اے مع لیڈی جیمز و غیره ۲۳/۲/۴۱ کو قادیان آئے۔اور محترم چوہدری صاحب اور معززین جماعت نے ریلوے اسٹیشن پر استقبال کیا۔اور میک ورکس ، مدارس اور ادارے دکھائے اور اگلے روز چوہدری صاحب اور سر فریڈرک جیمز مع لیڈی جیمز مراجعت فرما ہوئے۔بیت الظفر میں چوہدری صاحب کی طرف سے دعوت طعام دی گئی۔جس میں سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی شرکت فرمائی۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں انگریزی میں چوہدری صاحب نے معزز مہمانوں کو مخاطب کر کے ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔اور فرمایا کہ قادیان کے صنعتی اور تعلیمی ادارے مقصود بالذات نہیں ہیں ، ہماری جماعت بنیادی طور پر مذہبی جماعت ہے۔اور چونکہ اسلامی تعلیم انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم ان امور کی طرف بھی توجہ کریں جو جسمانی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ان اداروں سے مقصود یہ ہے کہ جہاں تعلیمی اور صنعتی لحاظ سے ہمارے نوجوان اچھے ہوں ، وہاں با اخلاق اور سچے مسلمان بھی بنیں۔نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض بتائی اور یہ بھی ذکر کیا کہ کس طرح مخالفت ہوئی۔حضور کے پیرو شہید کئے گئے۔حضور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اصلاح خلق کے لئے کھڑے ہوئے۔موجودہ نظام تباہ ہو رہا ہے۔اگر چہ موجودہ جنگ کے مصائب میں سے گذرنے کے بعد دنیا پھر بھی تاریکی میں ہی پڑی رہی اور اسے کوئی روحانی روشنی نصیب نہ ہوئی تو وہ اور بھی زیادہ مصائب اور آلام کا شکار بن جائے گی۔ہر ایک کا فرض ہے کہ برائی کی قوتوں کو پامال کرے تا ایک نیا نظام قائم ہو۔اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اپنے آپ کو روحانی آلائشوں سے پاک نہ کر لیں۔اس تاریک و تار دنیا میں صرف جماعت احمدیہ ہی روشنی کا ایک چراغ ہے۔جس کا مقصد روحانی اور جسمانی رنگ میں خدمت کرنا ہے خواہ اس کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کرنی پڑیں۔تا دنیا میں امن و آشتی قائم ہو اور انسان اپنے خالق کے سچے بندے بن جائیں۔