اصحاب احمد (جلد 11) — Page 210
210 تعالیٰ کی ولادت پر نصف صدی اور آپ کی خلافت پر چوتھائی صدی ہوتی تھی۔گویا یہ مبارک سال سہ گونہ مسرتوں کا حامل تھا۔جناب چوہدری صاحب نے جماعت میں یہ تحریک کی کہ اس جو بلی کے موقعہ پر حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت مبارک میں تین لاکھ روپیہ پیش کیا جائے۔چنانچہ احباب بقیہ حاشیہ: - اپنے دست مبارک سے کوٹھی کے مشرقی بیڈ روم، غربی ڈرائینگ روم ، اور ڈائننگ روم کی بنیاد میں دعا فرماتے ہوئے تین تین اینٹیں رکھیں۔آخری مقام پر حضور نے پرانے سائز کی تین اینٹیں رکھیں جو مسجد مبارک کی ایک طاقی کی جگہ جہاں حضرت مسیح موعود رونق افروز ہوتے تھے۔دروازہ لگانے پر نکلنے والی اینٹوں میں سے تھیں اور جو بطور تبرک حاصل کی گئی تھیں۔اس کے بعد مشرقی جانب کھڑے ہو کر ہزار ہا احباب کی معیت میں حضور نے لمبی دعا فرمائی اور حضور تشریف لے گئے اور مجمع میں شرینی تقسیم کی گئی۔چوہدری صاحب اس وقت حکومت ہند کے وزیر مواصلات مقرر ہو چکے تھے۔اور احرار پارٹی نے یہ روز آپ کی تقرری کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لئے مقرر کر رکھا تھا۔تعمیر کا کام حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی کے سپرد تھا۔جنہوں نے سلسلہ کی بہت سی تاریخی عمارات کی تعمیر کروائی تھی۔( الحکم والفضل ۱۴/۴/۳۵) خاکسار کو علم ہے کہ اس کا سارا اہتمام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کیا تھا اور نہایت توجہ سے آپ اس کی نگرانی فرماتے تھے۔دو پہر کو تعلیم الاسلام ہائی سکول ( بعدہ کالج) کے ہال میں لوکل کمیٹی کی طرف سے آپ کے اعزاز میں دعوتِ طعام کا اہتمام کیا گیا۔جو تحریک جدید کے مطابق صرف ایک کھانے پر مشتمل تھی۔سیدنا حضرت خلیفۃ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے بھی شرکت فرمائی۔سپاس نامے کے جواب میں آپ نے بیان کیا کہ یہ امر درست نہیں کہ قادیان میں مکان کی بنیا درکھا جانے پر ہی میں قادیان کا باشندہ بنا ہوں۔میں تو کم از کم پندرہ سال سے اپنے تئیں یہاں کا باشندہ سمجھتا ہوں۔جبکہ ۱۹۲۰ء میں میں نے مکان کے لئے قطعہ کر میں خرید کیا۔بلکہ والد صاحب تو اس سے بھی دو تین سال قبل قادیان میں رہائش اختیار کر چکے تھے۔مذبح کے جھگڑے کے تعلق میں کمشنر نے بمقام پنجگرائیں میں یہ کہا تھا کہ وہ صرف قادیان کے باشندوں کی بات سنیں گے۔اور میں اسی حیثیت سے ان کے سامنے پیش ہوا تھا اور انہوں نے اس امر کو قبول کیا تھا۔میرے بھائی