اصحاب احمد (جلد 11) — Page 209
209 چوہدری حسن دین صاحب باجوہ (صحابی ) درویش بتاتے ہیں کہ میں نے بھی اس جہاد کے لئے تین ماہ اپنے خرچ پر وقف کئے۔جب جانے کے لئے مرکز سے حکم پہنچا تو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا۔میں آپ کے پاس ملازم تھا۔فرمایا کہ آپ کے تو صرف بارہ روپے میرے ذمہ ہیں۔میں نے عرض کیا کہ آپ کو بھی ثواب پہنچے گا تو جانے کی اجازت دے دی اور چھتیس روپے دئے اور فرمایا کہ جب بھی ضرورت ہو خرچ منگوا لیا کرنا۔چنانچہ میں تین ماہ وہاں رہا۔اور آپ مجھے اخراجات بھجواتے رہے۔(۳) تعمیر بیت الظفر قادیان ور بوه: آپ نے دارالا نوار قادیان اور بعد تقسیم ملک عارضی مرکز نور بوہ میں دو عظیم الشان کوٹھیاں تعمیر کرائیں جو بیت الظفر کے نام سے موسوم ہیں۔اور سلسلہ احمدیہ کے لئے وقف کر دیں۔تقسیم ملک سے قبل اعلیٰ طبقہ کے مہمانوں کے قیام کا وہیں انتظام کیا جاتا تھا۔چنانچہ سر ڈگلس بینگ (چیف جسٹس ہائی کورٹ ( متحدہ ) پنجاب)۔مسلم لیگ کی یار جنگ تعلیمی کمیٹی اور فیڈرل کورٹ آف انڈیا کے دو چیف جسٹس یعنی سر مارس گائر اور سر پیٹرک سپنس مع لیڈی سپنس نے بیت الظفر میں ہی قیام کیا تھا۔یہ ۱۴/۴/۳۹ کو قادیان آئے۔ملک غلام محمد مرحوم (جو بعد میں گورنر جنرل پاکستان ہوئے ) اس میں فروکش ہوئے تھے۔وہ ان دنوں محکمہ سپلائی میں چوہدری صاحب کے ماتحت کام کرتے تھے۔بیت الظفر ربوہ سے بھی اسی رنگ میں استفادہ کیا جاتا ہے۔بیت الظفر قادیان کی بنیاد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک ہاتھوں سے رکھی گئی تھی۔* (۴) خلافت جو بلی فنڈ : ۱۹۳۹ء میں جماعت احمدیہ کے قیام پر، اور امام جماعت سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی اید والله بیت الظفر قادیان حضور کی کوٹھی دارالحمد محلہ دار الانوار کے بالکل متصل جانب غرب واقع ہے۔حضور ۱۲ را پریل ۱۹۳۵ء کو قریباً دس بجے صبح قصر خلافت سے پیدل دار الحمد تشریف لے گئے۔باہر آئے تو چوہدری صاحب استقبال کے لئے موجود تھے ، جو اسی روز لا ہور سے آئے تھے۔حضور نے